تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 603
تاریخ احمدیت۔جلد 22 603 سال 1964ء کرتے کہ مولا نا بقا پوری حق پر ہیں اور صرف یہی جماعت قادیان والی دین کا کام کر رہی ہے۔پھر اس قدر بے نفسی آپ میں تھی کہ کئی ایسے مباحثات کامیابی کے ساتھ ہوئے جن میں کئی احمدی ہوئے اور پھر کئی قسم کی تکالیف بھی آپ کو پہنچیں۔مگر ان باتوں کی اشاعت کو آپ نے کبھی پسند نہ کیا۔بعض اوقات بیعت لیتے وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔۔۱۹۲۷ء میں آپ نے جماعت احمد یہ سندھ میں سیاست (اثر ورسوخ ) قائم کرنے کے لئے بعض سرکاری ملازموں پر (جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو برے الفاظ سے یاد کرتے تھے ) مقدمات کرنے کی اجازت دی۔اور دوران مقدمہ ان کے معافی طلب کرنے پر معافی دیدی۔معافی دینے پر نہ صرف دوسرے لوگ مرعوب ہوئے بلکہ وہ بھی معتقد ہو گئے کیونکہ ان کو صحیح باتیں سننے کا موقعہ مل گیا۔اس لئے ۱۹۲۷ء و ۱۹۲۸ء میں بھی مولانا بقا پوری صاحب کو گذشتہ سالوں کی طرح لوگوں کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچی۔البتہ ان سالوں میں وجع الاعصاب سے بیمار ہوئے اور پھر دردسر، تپ اور غشی کا بھی کبھی کبھی دورہ ہو جاتا رہا۔اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی لائق بیٹی مبارکہ مرحومہ کی وفات کا صدمہ ہے جس نے آپ کو کمزور کر دیا مگر آپ بدستور تبلیغ کرتے رہے۔چنانچہ اس سال ۱۹۲۸ء میں بھی قریباً ۵۰ اشخاص داخل سلسلہ ہوئے۔اللهم زدفرد۔غرض یہ اول مبلغ سندھ جو۱۹۲۳ء میں سندھ تشریف لائے تو اس وقت سندھی احمدیوں کی صرف ایک انجمن صوبہ ڈیرہ کی تھی۔جس کے صرف دو چار گھر ممبر تھے۔اب بفضلہ تعالیٰ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعا کی برکت سے اتنی انجمنیں ہیں جن میں مندرجہ ذیل جگہوں : کمال ڈیرہ، صوبہ ڈیرہ ، سکھر، روہڑی، جامانی، واڑ اور ہن، پل، انور، گمبٹ ، کبر، بصیرو، مہیرا کنڈیاره، نانوری، تنیسه ، شکار پور، لاڑکانہ، پٹیارو، حسن، بابوری، باڑہ، وڑا، کوٹری ، حیدر آباد، میر پور، گوٹھ بوٹہ، دیال گڑھ، بڑھا کوٹ ، چک ،۴۹، چک ۳۰، چک ۱۰۵، جھگیاں، چک ۱۱۰، چک ۲۴، نوابشاہ، سکرنڈ ، ڈونر، لغاری، مراد علی چانڈیہ، لاڑائی چانڈیہ، نتھو کیریہ، پڈعیدن، دادو دون، رضل میمن وغیرہ میں احمدی جماعتیں اور افراد پائے جاتے ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔علاوہ اس کے اکثر غیر احمدی اب قریباً سلسلہ کے مصدق و ثنا خواں پائے جاتے ہیں“۔چوتھی رپورٹ : خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری تحریر فرماتے ہیں:۔مجھے حضرت مولوی صاحب سے اپنی ابتدائی زندگی سے واقفیت ہے۔حضرت مولوی صاحب