تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 602 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 602

تاریخ احمدیت۔جلد 22 602 سال 1964ء صاحب کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہوا۔آریہ لوگ دشمن ہو گئے اور مسلمانوں کے علماء وفقراء بھی دشمن ہو گئے۔اور وطنی نفرت اس کے علاوہ تھی۔اس لئے ہر ایک جائز و ناجائز حرکت سے حائل تبلیغ سلسلہ حقہ ہوئے بعض جگہوں پر تو کلہاڑیوں کو تیز کر کے قتل پر بھی آمادہ ہوئے اور گالی گلوچ کا تو بازار قریباً ہر جگہ گرم رہتا۔مگر مولوی صاحب نے نہ کبھی گالیوں کا جواب دیا اور نہ رنج کیا۔بلکہ رات کو بوقت سحری ان کے حق میں دعائیں کرتے۔آپ نے بعض اہل قلم احباب کو سندھی میں ٹریکٹ لکھنے کی اور بعض ذی ثروت احباب کو اپنے خرچ پر سندھی طالب علموں کو دارالامان بھیجنے کی ترغیب دی۔جس پر بعض نے ٹریکٹ سندھی زبان میں لکھ کر شائع کئے اور بعض سندھی طالب علم دار الامان بھیجے گئے۔۱۹۲۵۵ء میں عسر کی حالت دور ہوئی کیونکہ سندھ میں بعض جگہ جماعتیں قائم ہوئیں اور لوگ باتیں سننے لگے۔علماء پر خاص طور سے رعب پڑا بلکہ مولوی بقا پوری کا نام لے کر کہتے کہ ہم ان سے مقابلہ نہیں کرتے۔اس سے بھی سعید روحیں متوجہ ہوئیں اور احمدیت کو قبول کیا۔۶۔سندھ میں پیدل سفر کرنا نہایت ہی حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔مثل مشہور ہے ”پنڈے کھاں وات گتے جی چگو“۔یعنی پیدل سفر سے کتے کے منہ میں پڑنا اچھا ہے۔مگر مولا نا بقا پوری کی سادگی، محنت و جانفشانی کا یہ حال تھا کہ پیدل سفر کرتے ہوئے کتابوں کی گٹھڑی اٹھائے مخالف مولویوں کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں لیکن آپ کی متانت علمی لیاقت و شیر میں زبانی سے علماء اس قدر متاثر ہوتے کہ بعد مباحثہ آپ سے مخالفت چھوڑ دیتے اور آپ کا عملی نمونہ اور سجدہ میں گریہ وزاری دیکھ کر غیر احمدی آپ کو ولی اللہ سمجھتے اور جماعت احمدیہ کے لوگ تو آپ کو اپنا باپ ہی سمجھتے۔بچوں کو بھی آپ کے آنے سے خوشی ہوتی اور جہاں جاتے ضرور بچوں کو کچھ نہ کچھ نقدی دیتے۔ے۔آپ باوجود فقیری لباس میں ہونے کے کلمہ حق کیلئے اس قدر شجاع اور غیور تھے کہ بڑے بڑے رؤسا کو بھی ان کی مجلس میں جا کر صاف صاف بات سناتے۔چنانچہ نواب صاحب خیر پور سندھ کے حقیقی بھائی علی محمد صاحب کو ان کی مجلس میں جا کر تبلیغ کی اور وہ اس قدر معتقد ہو گئے کہ ہمیشہ آپ کی جرات اور لیاقت کی تعریف کرتے رہے۔ایسا ہی ایک خان بہادر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں اپنی مجلس میں ناشائستہ الفاظ کہے تو آپ نے بے دھڑک ایسی اعلیٰ طرز سے اس کا مقابلہ کیا کہ اس کے دوستوں نے اس کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔چنانچہ اس نے معافی مانگی۔اسی طرح جو بھی آپ سے ایک دفعہ ہمکلام ہوتا وہ آپ کا مداح بن جاتا۔حتی کہ بعض مباحثہ کرنے والے غیر احمدی اقرار