تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 567 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 567

تاریخ احمدیت۔جلد 22 567 سال 1964ء کہا۔مستورات کا جذبہ ایثار، جوشِ مسابقت اور روح قربانی قابل دید تھی۔چنانچہ تقریر کے اختتام پر ہی ایک لاکھ کے وعدے ہو گئے اور آٹھ ہزار روپیہ نقد جمع ہو گیا۔مجلس خدام الاحمد ی ربوہ کو علم انعامی کا اعزاز جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء سے ہر سال حسن کارکردگی کی بناء پر اول آنے والی مجلس کو علم انعامی دیا جاتا رہا ہے۔اس سال مجلس مقامی خدام الاحمد یہ ربوہ اول اور مجلس کراچی دوم آئی۔دیہاتی مجالس میں اول پوزیشن مجلس خدام الاحمدیہ لاٹھیا نوالہ ضلع لائل پور نے حاصل کی اور مجلس خدام الاحمدیہ تر گڑی ضلع گوجرانوالہ دوم قرار پائی۔۲۷ دسمبر ۱۹۶۴ء کے اجلاس دوم کے آغاز میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے چوہدری عبدالعزیز صاحب مہتم مقامی مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو اپنے دست مبارک سے علم انعامی عطا فر مایا۔اس وقت ربوہ کی مقامی مجلس عاملہ کے ارکان موجود تھے۔مہتمم مقامی نے اپنے ہاتھ میں علم انعامی لیا۔تمام جلسہ گاہ بارک اللہ لکم اور پھر اللہ اکبر، اسلام زندہ باد، احمدیت زندہ باد کے پُر جوش نعروں سے گونج اٹھی۔قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا جبکہ ربوہ کی مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کو حکم انعامی حاصل کرنے کا امتیاز حاصل ہوا۔قبل ازیں ربوہ کی مقامی مجلس دوم پوزیشن حاصل کر چکی تھی۔لیکن پاکستان بھر کی مجالس خدام الاحمدیہ میں اولیت کا فخر ا سے ۱۹۶۴ء میں ہی حاصل ہوا۔18 جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء کے متعلق معزز غیر احمدی دوستوں کے تاثرات خلافت ثانیہ کے خدا نما اور پُر انوار دور کے آخری جلسہ سالانہ میں بہت سے غیر از جماعت معززین نے شرکت فرمائی اور از حد متاثر ہوئے۔اس ضمن میں دو غیر احمدی معزز دوستوں کے قیمتی تاثرات ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔اول۔جناب زیڈ کے لطیف ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی۔لاہور نے مدیر الفضل کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا:۔مکر می جناب ایڈیٹر صاحب روز نامہ الفضل ربوہ السلام علیکم۔میں آپ کا ایک غیر احمدی بھائی ہوں۔جذبات نے مجھے جماعت احمدیہ کے بارہ میں چند سطریں لکھنے پر مجبور کیا ہے۔میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ انہیں اپنے روز نامہ الفضل میں شائع کر کے شکریہ کا موقع دیں گے۔