تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 564 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 564

تاریخ احمدیت۔جلد 22 564 سال 1964ء وقت وہاں گزرتا تھا۔ویسے وہ ہمارے گھر میں ہی تھے کسی کسی وقت چلی بھی جاتی تھی۔تین چار روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود مجھے فارسی (گلستان ) کا سبق پڑھایا۔پھر اپنی کم فرصتی کی وجہ سے فرمایا ناغہ ہوگا مولوی صاحب سے کہو یہ بھی وہی پڑھا دیا کریں۔قرآن شریف کا ترجمہ تو حضرت خلیفہ اول پہلے ہی پڑھاتے تھے۔یہ سلسلہ بھی پھر جلد شادی ہو جانے کی وجہ سے ختم ہوا بجز حسب توفیق درس قرآن میں شامل ہونے کے۔غرض اپنی علمی حیثیت کو جانتے ہوئے مجھے ہمیشہ حجاب ہی رہا کہ میں کیا لکھ سکتی اور کیا کہہ سکتی ہوں۔مگر تھوڑا عرصہ ہوا مجھے ایک سید زادی لڑکی کا جس نے میرے پاس پرورش پائی تھی خواب یاد آیا اور میں نے ارادہ کر لیا کہ اب اس عمر میں سہی جو بھی اور جتنا بھی ہو سکے حسب توفیق کسی موقع پر کہہ ہی دیا کروں شاید یہی مقبول بارگاہ الہی ہو جائے۔مالیر کوٹلہ میں ۱۹۳۴ء یا ۳۵ء کا ذکر ہے اس لڑکی نے صبح اٹھ کر مجھے خواب سنایا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواب میں بڑی مسجد (مسجد اقصی قادیان) میں دیکھا۔آپ وہاں کھڑے ہیں اور آپ دونوں بہن بھائی ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور مجھے ) کو کہتے ہیں کہ مسجد میں صفائی کرو۔اس کو بہت تعجب تھا کہ اور لوگوں کو نہیں کہا آپ دونوں کو صفائی کا فرمارہے تھے۔مسجد خواب میں جماعت ہوتی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ اس خواب کا مطلب یہی یا یہ بھی ہے کہ ہر مرد اور عورت جماعت کی (مع اپنے نفوس کے روحانی و ایمانی ترقی میں کوشاں رہے خوابوں کے مطلب ظاہر کے علاوہ اکثر بہت وسعت رکھتے ہیں۔اس خواب کے یاد آجانے پر میں نے جھجھک کو دور کر کے برائے نام سہی قلم اٹھانے کی نیت کر لی۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔اب میں اصل مضمون کی طرف آتی ہوں۔چند الفاظ ہی آپ کے گوش گذار کرنے ہیں۔خدا سے دعا ہے کہ وہ ان کو مؤثر بنا دے۔میں جب اپنی سب کی آمین کا یہ الہامی مصرعہ پڑھتی یا سنتی ہوں کہ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے تو سناٹا آجاتا ہے دل لرز اٹھتا ہے۔خدا تعالیٰ ہم سب کو اس قابل بنائے کہ یہ جڑ رہ جائے اور ہم اس کے افضال کے جاذب بنے رہیں۔ایمان اور تقوی لازم و ملزوم ہیں کامل ایمان ہو گا تو تقویٰ ضرور حاصل ہوگا گویا تقویٰ ایک تمغہ ہے جو ظاہراً جس کے لگا نظر آئیگا سمجھا جائے گا کہ مومن ہے اور متقی کا ایمان بھی دن بدن ترقی کرے گا۔ایمان کے درجات کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا درجہ بھی بڑھتا جاتا ہے جس درجہ کا ہمارے قلب میں ایمان ہو گا اسی درجہ کا تقویٰ ہمارے اعمال میں ظاہر میں چمکتا دکھائی دے گا جس کا کامل ایمان ہو گا