تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 565 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 565

تاریخ احمدیت۔جلد 22 565 سال 1964ء وہ کامل متقی ہو گا۔تقویٰ کے عام فہم سیدھے سادے معنی یہی ہیں کہ بیچ بیچ کر اور خوف خدا سے ڈر ڈر کر چلنا اور قلب کی صفائی۔ہر وہ امر جس کی نسبت شبہ بھی ہو کہ یہ خلاف رضائے الہی ہوسکتا ہے یا مخلوق خدا کیلئے دکھ اور شر پھیلانے کا موجب ہو سکتا ہے اس سے دور ر ہیں۔ہم آپ سب کیلئے یہ الہی نازل شدہ مصرعہ ایک بڑی تنبیہ ہے۔ہم کو تقویٰ اور ایمان میں اتنی ترقی کرنی چاہیئے کہ دنیا کی نظروں میں ممتاز ہو جائیں اور ہمارا مولا کریم ہم سے راضی ہو جائے۔ہماری زبان بے لگام نہ چلے۔ہمارے دل گند سے پاک ہوں ، ہم اخلاق رذیلہ سے دور ہوں اور اخلاق فاضلہ کا نور ہماری پیشانیوں پر واضح طور پر چمکتا نظر آ جائے۔ہم میں سے ہر ایک تمام عالم کے لئے ایک نمونہ اور مشعلِ راہ بن جائے۔ہمیں چاہیئے اور دل و جان سے ہماری کوشش شب و روز یہی ہو کہ تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم بڑھاتے چلیں اور بڑھ کر پھر پیچھے نہ ہٹیں۔ہماری جماعت تقویٰ کا ایک اعلیٰ نمونہ بن جائے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے در ہمارے لئے نیز ہماری اولادوں اور نسلوں کے لئے زیادہ ہی زیادہ کھلتے چلے جائیں۔مگر چونکہ انسان کمزور ہے، محض کوشش سے وہ کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالی کی نصرت شاملِ حال نہ ہو۔اس کے لئے اس راہ پر چلنے کو جو ایک عصا خدائے کریم نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے اس کا سہارا لے کر ہی یہ راہ دشوار گذار آسانی سے طے ہو سکتی ہے۔وہ عصا ہے’ دعا‘۔دعا جو ذات باری کی رحمت پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اس کی محبت میں کھوئے جا کر کی جاتی ہے وہ ایسا ہی عصا بن جاتی ہے گویا خدا تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ میں اپنے بندہ ناچیز کا ہاتھ تھام کر ہر گھائی پار کرا دینے کا ارادہ فرمالیا ہے۔دعا رحمت ہے، سب سے بڑی نعمت ہے ، خدا اور بندے کے درمیان ایک وسیلہ ہے جو محبت کو بڑھاتا ہے ایمان کو جلا بخشتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا پیارا رب، ہمارا مالک، ہمارا خالق ہمارے قریب آ گیا ہے اور یہ سایہ اس کی رحمت کا اگر ہمارے سر پر ہے تو پھر دنیا کی کوئی بلا ہمیں ڈرا نہیں سکتی۔پس دعا سے اس کی نصرت ڈھونڈیں، تقویٰ اختیار کریں۔ہر وقت ڈرتے رہیں کہ خدا نہ کرے قدم کسی منزل پر پھسل نہ جائیں۔کامل ایمان اور تقویٰ اگر ہمیں حاصل ہو جائے تو ہم سچے مسلمان و احمدی کہلا سکتے ہیں ورنہ ہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیں“۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے قلوب میں ہر دم ایمان ترقی پکڑتا جائے اور ہم سب کے سینوں پر تقویٰ کا تمغہ چمکتا نظر آئے۔ہمارے چہرے اخلاص و محبت کے نور سے منور ہوں۔ہم اپنے مولا کی