تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 563
تاریخ احمدیت۔جلد 22 563 سال 1964ء خواتین سے جو بصیرت افروز خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے:۔”اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرّحمن الرّحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم و علی عبده المسيح الموعود رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ انْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران:۹) ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ سب کو جلسہ سالانہ کی شرکت مبارک ہو۔برکات مرکز سے حصہ وافر لے کر اور ایمان و عرفان میں ترقی کے ساتھ خیر سے جائیں اور خیر ہی رہے۔مہمانوں اور میز بانوں سب کا خدا تعالیٰ اپنے کرم خاص سے حافظ و ناصر رہے۔یہ دعا جو میں نے پڑھی ہے اس کے ساتھ ایک خاص یا دوابستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد تیسری شب تھی کہ صبح کے قریب میں نے خواب دیکھا کہ آپ صحن میں ایک تخت پر کھڑے ہیں اور وہ تخت لرز رہا ہے۔آپ بڑی پُر شوکت آواز میں فرماتے ہیں کہ میری جماعت سے کہدو کہ یہ دعا ( مندرجہ بالا ) بہت کثرت سے پڑھیں۔میری آنکھ کھلی تو میرے سرہانے ایک لڑکی بیٹھی تھی غالباً نماز کے لئے جگانے کو۔میں نے اس کو یہ خواب سنایا۔ایک وقت ایسا آیا چند سال بعد کہ بہت شدید ابتلاء اس کو پیش آیا مگر اس نے قابل نمونہ ثابت قدمی دکھلائی۔اولا د جو اس کو بہت پیاری تھی چھینی گئی ، گھر سے بے گھر ہوئی ( کیونکہ شوہر عیسائی ہو گیا تھا اور اس کو بھی ادھر کھینچنا چاہتا تھا ) لیکن اس نے دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔اس کے الفاظ میرا خواب سنتے ہی یہ تھے کہ میں آج سے یہ دعا ہر گز نہیں چھوڑوں گی۔پھر اُٹھ کر حضرت خلیفہ اول کو پہلے میں نے یہ خواب سنایا۔آپ نے فرمایا : ” میں تو آج سے ہی ضرور خصوصیت سے اس دعا پر زور دوں گا اور درس میں لوگوں سے بھی کہوں گا“۔میں نے کچھ تعلیم نہیں پائی۔ساڑھے دس سال کی عمر میں با قاعدہ گھر یلو تعلیم کا جوسلسلہ تھاوہ ختم ہو گیا تھا۔چونکہ میرے استاد مکرم پیر منظور محمد صاحب مرحوم کی اہلیہ محترمہ مرحومہ کوئی۔بی ہوگئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پڑھنے کے لئے ادھر جانے کو روک دیا تھا کیونکہ اس طرح زیادہ