تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 550
تاریخ احمدیت۔جلد 22 550 سال 1964ء اہل مغرب کا مطالبہ تبلیغ اسلام کے نقطہ نگاہ سے مغربی ممالک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے آپ نے توجہ دلائی کہ آج وہاں ہمارا مقابلہ عیسائیت سے نہیں بلکہ لامذہبیت سے ہے۔رومن کیتھولک فرقہ کو چھوڑ کر باقی تمام عیسائی فرقوں کی قدیم مذہبی حیثیت میں اب بہت کچھ تبدیلی آچکی ہے۔عیسائی عقائد کو اب وہاں جزو ایمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ محض ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے برائے نام تسلیم کیا جاتا ہے۔فی الاصل اب وہاں عیسائیت کی بجائے لامذہبیت کو فروغ حاصل ہو چکا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اب وہاں صرف اسلام ہی نہیں بلکہ فی الاصل مذہب کی حمایت کا بار بھی ہم پر ہی ہے۔ان حالات میں اہل مغرب کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ان میں کیا چیز نہیں ہے جو مذہب ان میں پیدا کر سکتا ہے۔وہ اس کا علمی جواب ہی نہیں بلکہ عملی جواب چاہتے ہیں۔پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی وہاں اس قدر سرعت کے ساتھ ہوئی ہے اور ان علوم سے استفادہ کرنے میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے پہلو بچا کر وہ اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اب انہیں اخلاق اور روحانیت کی طرف واپس آنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی۔ادھر نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی اور اس سے یک طرفہ استفادہ کے نتیجہ میں نوع انسان کی مکمل تباہی کا خدشہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ان کی یہ وہ مشکلات ہیں جن کا خاطر خواہ صل وہ چاہتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں لیکن کوئی علمی حل ان کی تسلی نہیں کر سکتا تا وقتیکہ اس کا عملی نمونہ ان کے سامنے نہ آجائے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کسی اور تبلیغ کی ضرورت نہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام کے پیش کردہ اصول ارفع و اعلیٰ ہیں اور ان میں یہ اہلیت موجود ہے کہ یہ ہمارے دکھوں کا مداوا کر سکیں۔لیکن ہمیں ان کا عملی نمونہ پیش کر کے دکھا دو۔روحانیت سے ماورا وہ یہ مشاہدہ بھی کرنا چاہتے ہیں کہ اس کا روز مرہ زندگی پر کیا اثر ہوگا۔وہ محض بحث کی خاطر یہ نہیں کہتے بلکہ دلی تڑپ کے ساتھ کہتے ہیں اور فی الواقعہ اسلامی تعلیم اور اصولوں کا وہ ایسا عملی نمونہ دیکھنے کے متمنی ہیں کہ جسے دیکھ کر دل یہ اطمینان پکڑ جائیں کہ اسلام ان کی مشکلات دور کرسکتا ہے۔اسلام کی عملی تجربہ گاہ مغربی ممالک کی اس صورتحال کے ضمن میں احباب کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے محترم چوہدری صاحب موصوف نے فرمایا کہ آج اسلامی تعلیم کا ایسا دلوں کو مسخر کرنے والا نمونہ