تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 551 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 551

تاریخ احمدیت۔جلد 22 551 سال 1964ء دکھانا ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ہم اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کا مشن لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ہمارے لئے اس نمونہ کے پیش کرنے کا امکان صرف ربوہ میں ہی ہے کیونکہ سب سے زیادہ تعداد میں ایک مقام پر ہم ربوہ میں ہی ہیں۔ہمیں چاہیئے کہ ہم یہاں اپنے آپ کو اسلام کی ایک عملی تجربہ گاہ (لیبارٹری) بنالیں جہاں دنیا اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے عملی تجربہ کو مشاہدہ کر سکے۔اگر ہم یہ بات پیدا کر لیں تو ہم مغرب کی لامذہبیت کا بھی مقابلہ کر سکتے ہیں اور فی زمانہ اہل مغرب کو جو مشکلات درپیش ہیں انہیں بھی حل کر دکھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔موجودہ وقت کی یہ وہ اہم ضرورت ہے جسے پورا کر کے اسلام کو مغرب میں غالب کیا جا سکتا ہے۔تبلیغ اسلام کے ضمن میں بعض بنیادی ضرورتیں مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی راہ میں مشکلات اور ان کا حل پیش کرنے کے علاوہ محترم چوہدری صاحب موصوف نے تبلیغ اسلام کے ضمن میں بعض بنیادی ضرورتوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔اس تعلق میں آپ نے غیر ملکی زبانوں پر عبور حاصل کرنے اور مختلف اقوام کی تاریخ کے ان عناصر کا مطالعہ کرنے پر خاص زور دیا جو قومی ذہن کے ارتقاء اور قومی کردار کی تشکیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس کے بغیر کوئی مبلغ غیر اقوام میں اس طور پر تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا کہ وہ اقوام اپنائیت کے احساس کے ماتحت اس کی بات سن سکیں اور اس میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوں۔پھر آپ نے تبلیغ کے مختلف شعبوں میں علیحدہ علیحدہ ماہر تیار کرنے کے سلسلہ میں Specialization کے اصول سے فائدہ اٹھانے اور مبلغین میں زندگی کے مختلف ادوار کے لحاظ سے درجہ بدرجہ نئی روح پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور آخر میں علی الخصوص اس امر پر بہت زور دیا کہ بچوں کی تعلیم میں بھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پوری طرح نبھانا از حد ضروری ہے۔بچوں کی تعلیم کے ضمن میں آپ نے اس امر پر تشویش کا اظہار فرمایا کہ مرکز سے باہر بچوں کو خالص دنیوی نقطۂ نگاہ سے تعلیم دینے کا رجحان بہت بڑھ رہا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متمول گھرانوں کے قابل اور ذہین بچے جامعہ احمدیہ میں داخل نہیں ہوتے۔وہ دنیوی علوم کی تحصیل کے لئے ہی وقف رہتے ہیں اور جامعہ کے حصہ میں بالعموم وہی بچے آتے ہیں جو اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک نہیں ہوتے یا پھر جو حالات کی مجبوری کے باعث دنیوی علوم حاصل نہیں کر سکتے۔آپ نے توجہ دلائی کہ یہ امر بھی تبلیغ اسلام کی راہ میں روک ثابت ہو رہا ہے۔آپ نے فرمایا آج دنیا جن مشکلات میں مبتلا ہے اور جن کے