تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 530 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 530

تاریخ احمدیت۔جلد 22 530 سال 1964ء مغربی افریقہ کے تمام ایسے ممالک جہاں احمد یہ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اس بات کا کھلم کھلا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر احمد یہ جماعت نے اس طرف توجہ نہ کی ہوتی تو وہاں کی مسلمان آبادی کے لئے تعلیم کا کوئی انتظام نہ ہوتا اور مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ عیسائیت کی آغوش میں چلا جاتا۔چنانچہ احمد یہ جماعت کی اس امر کی طرف توجہ سے قبل مسلمان عیسائی سکولوں کے ذریعہ دھڑا دھڑ عیسائی ہو رہے تھے۔مغربی نائیجیریا کے ایک معزز مسلمان نے حال ہی میں کہا ہے کہ :۔مغربی افریقہ میں اسلامی تعلیم اور ثقافت کو عظیم خطرہ درپیش تھا۔اگر احمدیہ تحریک آڑے نہ آتی تو اس خطے میں اسلام مٹ گیا ہوتا۔احمد یہ مشن نے بینظیر قربانیوں اور انتھک کوششوں سے اسلام کو پھر زندہ کر دکھایا ہے۔مغربی افریقہ میں سب سے پہلا اسلامی سکول نائیجیریا میں احمد یہ جماعت نے ۱۹۲۲ء میں کھولا اس کے بعد نہ صرف مغربی افریقہ کے دوسرے ممالک میں اسلامی سکول کھولے گئے بلکہ نائیجیریا میں کئی اور اسلامی سوسائیٹیاں معرض وجود میں آگئیں۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے سینکڑوں کی تعداد میں سکول کامیابی سے چل رہے ہیں اور نہ صرف یہ کہ اب مسلمان عیسائی سکولوں کے ذریعہ عیسائی نہیں ہورہے بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی دیکھ کر جس کی ابتدا کا سہرا احمدیت کے سر ہے متعدد عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں۔شمالی نائیجیریا میں جہاں مسلمانوں کی بہت بھاری اکثریت ہے ایک عدالتی اصلاح کی ضرورت تھی۔اور وہ یہ کہ وہاں دو قسم کی عدالتیں ہیں۔ایک شرعی اور دوسری برطانوی قانون کے ماتحت۔اکثر یوں ہوتا تھا کہ شرعی عدالت میں مقدمہ کا فیصلہ ہوتا تو اپیل برطانوی قانون والی عدالت میں جاتی اور فیصلہ شرعی عدالت کے فیصلہ کے الٹ ہو جاتا۔اس بات کا مسلمانوں پر بہت برا اثر پڑ رہا تھا۔چنانچہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو اس کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق دی۔خاکسار نے نائیجیریا کے ایک روز نامہ ڈیلی سروس (DAILY SERVICE) مورخہ ۲۶/۲/۴۹ میں ایک مراسلہ شائع کروایا جس کا عنوان تھا "WHICH IS WHICH" اور متن یہ تھا:۔میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ شمالی نائیجیریا میں کونسا قانون رائج ہے۔اسلامی قانون یا برطانوی قانون؟ اگر یہ دونوں پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں یعنی اگر بعض مقدمات جو کسی خاص نوعیت کے ہوں برطانوی قانون والی عدالت میں فیصلہ ہوتے ہیں اور بعض کسی اور نوعیت کے اسلامی قانون