تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 531
تاریخ احمدیت۔جلد 22 531 سال 1964ء والی عدالت میں۔تو یہ بات برداشت کی جاسکتی ہے۔اگر فی الحال تمام کے تمام مقدمات برطانوی قانون کی عدالت ہی میں لے جائے جائیں تو پھر بھی میرے خیال میں یہ بات محل اعتراض نہیں اگر چہ بعض لوگ اس بات کو پسند نہ کریں گے۔لیکن اب جو کچھ دیکھنے میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی قانون کو اسلامی قانون پر حاوی کر دیا جاتا ہے۔اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں اسلامی قانون کی بہتک کا پہلو پایا جا تا ہے۔اب وہاں ( یعنی شمالی نائیجیریا میں ) کیا کچھ ہو رہا ہے؟ ایک مقدمہ اسلامی قانون کی عدالت میں فیصلہ پاتا ہے اس کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جاتی ہے جہاں فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر چہ اسلامی عدالت کا فیصلہ (سزا) اسلامی قانون کے مطابق تو درست ہے لیکن جہاں تک برطانوی تعزیرات کا سوال ہے اس ملزم کو کسی اور الزام کے ماتحت مجرم قرار دیا جائے گا اور اس کی سزا کم ہو گی۔اور اس طرح اسلامی قانون کی عدالت کا فیصلہ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔جہاں تک ہم اعلیٰ عدالتوں کے قیام کے مقاصد کو سمجھتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ ان کا کام یہ فیصلہ دینا ہے کہ کیا ماتحت عدالت نے قانون کو صحیح طور پر استعمال کیا ہے یا نہیں۔اعلیٰ عدالت میں قانون وہی ہوتا ہے جو ماتحت عدالت میں۔گویا کہ اعلیٰ عدالت ایسے جوں پر مشتمل نہیں ہوتی جنہوں نے مقدمہ کا فیصلہ کسی اور ہی قانون کی رو سے کرنا ہو۔اس لئے میں تو یہ بات سمجھ ہی نہیں سکتا کہ سپریم کورٹ اسلامی قانون کی عدالتوں میں فیصلہ پانے والے مقدمات کے لئے اپیل کی عدالت کس طرح متصور ہوسکتی ہے۔اسلامی قانون کی عدالتوں میں فیصلہ پانے والے مقدمات کی اپیلیں ایسی عدالتوں میں پیش ہونی چاہئیں جو اسلامی قانون ہی کے مطابق فیصلہ کرنے والی ہوں اور جن کے جج صاحبان ماتحت عدالتوں کے جوں سے زیادہ قابل ہوں اور اس طرح یہ حج مقدمہ کو اسی قانون کے ماتحت پر کھیں جس کے ماتحت پہلے فیصلہ کیا گیا ہو۔اگر بعض خاص قسم کے مقدمات کے متعلق حکومت یہ چاہے کہ وہ برطانوی قانون ہی کے ماتحت فیصلہ پائیں تو ایسے مقدمات کو اسلامی قانون والی عدالتوں میں ہرگز پیش نہ کیا جائے۔مقدمہ کے آغاز ہی سے ان کو برطانوی قانون والی عدالتوں میں رکھا جائے۔لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ ایک مقدمہ کو پہلے اسلامی قانون والی عدالت میں پیش کیا جائے اور پھر اپیل کے لئے اسی مقدمہ کو دوسری قسم کی عدالت میں لے جایا جائے۔کیا یہ بات اسلامی قانون سے مذاق کے مترادف نہیں ہے؟“