تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 524
تاریخ احمدیت۔جلد 22 524 سال 1964ء۔ذہانت کو تربیت کے ذریعے تیز کرنا۔ے۔ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کا خاص خیال رکھنا اور اس کے لئے معتین پروگرام بنا کر اس پر عمل درآمد کرنا۔۸۔اسلامی اخلاق میں خود رنگین ہونا اور دوسروں کو رنگین کرنا تا کہ سچائی، دیانت، امانت، وفا، پاکیزگی اور دیگر اخلاق حسنہ جو دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں پھر سے عملی صورت میں قائم اور راسخ کئے جائیں اور ایک ایسے نمونے کی اسلامی نو جوان سوسائٹی کی بنیاد پڑے جو ان اخلاق حسنہ کی حفاظت کا عہد کرے اور عملاً اس عہد کو نبھا کر دکھائے اور آئندہ نوجوان نسلوں تک اس امانت کو سینہ بہ سینہ منتقل کرتی چلی جائے۔۹۔قوم کے بچوں کی اس رنگ میں تربیت کرنا کہ جب وہ خدام کی عمر تک پہنچیں تو نمونے کے تربیت یافتہ اسلامی سپاہی بن چکے ہوں۔۱۰۔دین کی خدمت کا نوجوانوں میں جوش پیدا کرنا اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی روح کو توانائی بخشنا۔۱۱۔حقوق اللہ کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ پیدا کرنا اور خدمت خلق کی ایک کو دلوں میں لگانا۔اسلام اور احمدیت کے مسائل پر غور و فکر کی عادت ڈالنا اور بہتری کے لئے تجاویز سوچ کر ہر مفید بات کو عملی جامہ پہناناوغیرہ وغیرہ۔حضور نے جس عظیم اور مستقل مقصد کو پیش نظر رکھ کر اس مجلس کو قائم فرمایا تھا وہ حضور کے ان الفاظ سے ظاہر ہے:۔میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسل دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے۔آج وہ ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولاد کے دلوں میں دفن ہے اور پرسوں ان کی اولاد کے دلوں میں۔یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے، ہمارے دلوں کے ساتھ سمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کر لے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔اگر ایک یا دو نسل تک یہ تعلیم محدود ہی تو کبھی ایسا پختہ رنگ نہ دے گی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔110