تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 525
تاریخ احمدیت۔جلد 22 525 سال 1964ء پھر حضور فرماتے ہیں:۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلے پر کیا کیا حملہ کیا جائے گا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے ان حملوں کا کیا جواب دیا جائے گا۔ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اس کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں اور در حقیقت یہ روحانی ٹرینینگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے اس فوج کی جس فوج نے احمدیت کے دشمنوں کے مقابلہ میں جنگ کرنی ہے، جس نے احمدیت کے جھنڈے کو فتح اور کامیابی کے ساتھ دشمن کے مقام پر گاڑنا ہے۔بے شک وہ لوگ جو ان باتوں سے واقف نہیں ہیں وہ میری باتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ آج نوجوانوں کی ٹریننگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کچھ نہیں ہوا مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔درحقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اُٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے ، دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے“۔پس کیا کسی راہنما کا اپنی قوم پر یہ احسان کم ہے کہ وہ اس کے موجودہ نو جوانوں کی تربیت ہی کا نہیں بلکہ نسلاً بعد نسل نوجوانوں کی ہر آنیوالی پور کی تربیت کا بھی ایک ایسا شاندار اور باقی رہنے والا انتظام کرے کہ وہ خام مال کی طرح اس کے قائم کردہ تربیت کے ایک عظیم الشان کارخانہ میں داخل ہوں اور جب دوسرے کنارے سے تیار ہو کر نکلیں تو ایک اعلیٰ درجہ کی صیقل شدہ مکمل گل کی صورت اختیار کر چکے ہوں جو نظام اسلامی کا ایک زندہ خلاصہ ہو۔111 میں فجلس خدام الاحمدیہ کے رکن کی حیثیت سے اپنے ہیں سالہ تجربہ کی بناء پر یہ کہ سکتا ہوں کہ اگر احمدی نوجوان مجلس خدام الاحمدیہ کے عظیم الشان کارخانے میں سے وسیع پیمانے پر طوعاً و کرہانہ گزارے جاتے تو آج احمدیت کے مسائل سینکڑوں گنا زیادہ بھیا نک صورت اختیار کر چکے ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ صحابہ کے گزر جانے کے بعد ہماری مثال ایک ایسے ملک کی سی ہوتی جس کی فوج ابتدا چیدہ چیدہ نامور مشاق ماہر فن سپاہیوں پر مشتمل ہو لیکن رفتہ رفتہ وہ سارے سپاہی ملک کے نام کی خاطر اپنا اپنا وقت پورا کر کے قربان ہو جا ئیں اور اُس وقت یہ تکلیف دہ بھیا نک صورتِ حال واضح ہو کہ ان کی جگہ لینے کے لئے سپاہیوں کی کوئی دوسری فوج تیار نہیں۔نہ ہی