تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 523
تاریخ احمدیت۔جلد 22 523 سال 1964ء پھیلا ؤ دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا۔تربیت کے نئے نئے پروگرام مرتب ہونے لگے اور اس ذہن سے، جس کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ سخت ذہین و فہیم ہوگا ، آبپاشی کی نئی نئی سکیمیں پھوٹنے لگیں۔وقار عمل کے ذریعے خدام الاحمدیہ سے توقع کی گئی کہ وہ جھوٹی عزتوں کو مٹا کر ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہی میں عزت اور فخر محسوس کریں۔معذوروں، مسکینوں اور بیوگان وغیرہ کی خبر گیری کی تلقین کے ساتھ شعبہ خدمت خلق وجود میں آیا اور اپنی ذات میں یہی ایک وسیع لائحہ عمل کی صورت اختیار کر گیا۔نماز باجماعت کے قیام کی جد و جہد بھی خدام الاحمدیہ کے سپرد کی گئی اور یہ کام بھی اپنی اہمیت کے لحاظ سے خدام الاحمدیہ کے لائحہ عمل میں ایک نمایاں حیثیت اختیار کر گیا اور صرف اسی حد تک نہیں رہا بلکہ دیگر تربیتی امور کی شمولیت کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک اہم اور بنیادی شعبہ بن گیا جسے ”شعبہ تربیت“ کہا جاتا ہے۔انسداد آوارہ گردی کی طرف بھی خاص توجہ کی گئی۔لغویات سے روکنے کا کام بھی سپرد ہوا۔غرضیکہ گزرتے ہوئے وقت کے پہلو بہ پہلو مجلس خدام الاحمدیہ جوں جوں اپنا یہ تاریخی سفر طے کرتی چلی گئی آسمانی پانی سے بھر پور نے ندی نالے اس میں آ آکر ملتے رہے۔کہیں تربیتی پروگرام کے نالے نے اس کے حجم میں اضافہ کیا اور کہیں خدمت خلق کا نالہ اس میں آکر شامل ہوا۔تبلیغ کا بھی ایک علیحدہ پروگرام مجلس کے سپرد کیا گیا اور شعبہ تبلیغ کی الگ بناڈالی گئی۔چنانچہ ۱۹۳۹ء کے اواخر تک یہ مجلس صرف پروگرام کے لحاظ سے ہی وسیع تر نہیں ہوئی بلکہ اپنی رکنیت کے لحاظ سے بھی اس کے دائرے نے چند افراد سے پھیل کر ساری جماعت کے نو جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اب ہر وہ فردِ جماعت جو پندرہ سال کی عمر سے چالیس سال کی عمر تک ہو بحیثیت ایک احمدی نوجوان لازماً اس کا ممبر شمار ہونے لگا۔اس وقت تک حضور کے مختلف ارا شادت کی روشنی میں مجلس خدام الاحمدیہ نے اپنے لئے جو لائحہ عمل تجویز کیا وہ خلاصہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل تھا:۔ا۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تنظیم۔۲۔ان میں قومی روح پھونکنا اور جذبہ ایثار پیدا کرنا۔اسلامی تعلیم کی تکمیل و ترویج واشاعت تحصیل علم کا شوق اور اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا۔۴۔ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا، ماحول کو صاف ستھرا رکھنا اور محنت اور ہاتھ سے کام کرنے کی عادت کا وقار پیدا کرنا۔۵- طبیعت میں استقلال پیدا کرنا۔