تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 522
تاریخ احمدیت۔جلد 22 522 سال 1964ء میں خبر دار فرمایا لیکن افسوس کہ انہوں نے خطرے کی ان جھنڈیوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور اس بر وقت تنبیہہ سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس خطرے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيَّا (مریم: (۲۰) کہ تو میں اس طرح تنزل اختیار کرتی ہیں کہ جب نیک نسلیں گزرنے لگتی ہیں تو اپنے پیچھے نو جوانوں کی ایسی نسلیں چھوڑ جاتی ہیں جو عبادت الہی سے غافل ہو جاتے ہیں اور ہوا و ہوس سے آنکھ چھولی کھلنے لگتے ہیں۔پس اس نی نسل کی حفاظت کی غرض سے بلکہ ہر آئندہ نسل کو ٹھوکروں سے بچانے اور استحکام بخشنے کی خاطر ۳۱ جنوری ۱۹۳۸ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد ڈالی۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب جماعت مصری فتنے سے نبرد آزما تھی۔چنانچہ سب سے پہلے مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد جو کام کیا گیا وہ اس فتنے کا مقابلہ تھا لیکن یہ تو ایک وقتی اور معمولی بات تھی۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی اصل غرض و غایت اس سے بہت زیادہ وسیع ، اہم تر اور شاندار تھی۔اپنی ابتدائی صورت میں مجلس خدام الاحمدیہ صرف دس نو جوانوں پر مشتمل تھی لیکن بہت جلد اس کا پھیلاؤ بڑھ گیا اور بالآخر تمام احمدی نوجوانوں کی اس میں شمولیت لازمی قرار پائی۔قیام کے پانچ روز بعد یعنی ۴ فروری ۱۹۳۸ء کو اس مجلس کا با قاعدہ نام مجلس خدام الاحمد یہ رکھا گیا۔ابتداء میں مطمح نظر تحصیل علم کے بعد قلمی جہاد کرنا تھا۔چنانچہ یہ چند نو جوان قرآن و حدیث، تاریخ و فقہ اور دیگر اسلامی علوم سے ٹھوس استفادہ کرنے کے بعد اہم دینی مسائل پر مضامین لکھنے کی مشق کرتے اور ان میں سے بعض اخبارات میں بھی شائع کرواتے۔ان مضامین سے متعلق حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خودا اپنی اس قیمتی رائے کا اظہار فرمایا کہ:۔وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے مضمونوں سے دوسرے نمبر پر نہیں ہیں“ ان دنوں مجلس خدام الاحمدیہ کی مثال ایک عظیم الشان دریا کے منبع کی طرح تھی جو ایک چھوٹے سے پہاڑی چشمے کی صورت میں پھوٹتا ہے اور اس کے دہانے پر کھڑے ہو کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہی پانی بڑھ کر عظیم الشان دریا بن جائے گا جس سے نہریں نکالی جائیں گی اور پیاسی زمینیں سیراب کی جائیں گی۔چنانچہ بعینہ اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ کا چشمہ بھی پھوٹا۔اس چشمہ کے مقدر میں ایک نافع الناس دریا بننا تھا جس کا دھارا دن بدن نئے مقاصد کی شمولیت کے ساتھ موٹا ہوتا چلا گیا اور کاموں کا