تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 521
تاریخ احمدیت۔جلد 22 521 سال 1964ء پھر یہ احسانات بھی آگے دو قسموں میں منقسم کئے جاسکتے ہیں۔کچھ ایسے جن کو وسعت مکانی تو حاصل ہو لیکن وسعت زمانی سے محروم ہوں اور ان کا عرصہ فیض عارضی اور وقتی ہو۔جیسے ہمیں کئی قسم کی وقتی مگر شدید مشکلات اور خوفناک بلاؤں میں سے مختلف وقتوں میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کامیابی کے ساتھ نکال کر لے جاتے رہے۔ایسے تمام احسانات کو بہت ہی عظیم الشان نوعیت کے ہیں اور اس لائق ہیں کہ ہمیشہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ ان کا عرصہ فیض رسانی عارضی تھا۔ان کے مقابل پر بعض قومی احسانات وسعت مکانی بھی اپنے اندر رکھتے ہیں اور وسعت زمانی بھی۔میرے نزدیک احسانات کی جملہ اقسام میں سے یہ قسم سب سے زیادہ حسین ، قابلِ ستائش اور لائق شکریہ ہے۔صاحب شریعت انبیاء کے سوا بہت کم دوسرے راہنماؤں کو خواہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی یہ توفیق ملتی ہے کہ اس قسم کے مستقل اور وسیع نوعیت کے احسانات سے جو گویا ایک وسیع اور عظیم الشان صدقہ جاریہ کا رنگ رکھتے ہوں اپنی قوم کو نواز ہیں۔اس پہلو سے دنیا کا محسن اعظم حسن و احسان میں لاثانی، جس کے پاسنگ کو بھی کوئی دوسرا نہیں پہنچتا، بلاشبہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بالا صفات ہے کہ اپنے احسان میں عرب و عجم اور گورے کالے کی تمیز نہ رکھی اور دنیا کی ہر قوم کا محسن بن کر آئے اور زمانے کی انتہاء تک آپ کے احسانات کا سلسلہ ممتد ہوا۔یہ محض آپ ہی کی قوت قدسیہ کا فیض ہے کہ آپ کے غلام زادوں کو بھی آپ کی پیروی میں آپ کے اس عظیم الشان حسن و احسان میں سے کچھ حصہ ملا اور ان کا دائرہ فیض بھی وسیع ہوا اور ان کا عرصہ فیض مختلف زمانوں تک ممتد ہوا۔حضرت مصلح موعود کے اس نوعیت کے احسانات میں سے آج میں مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کا ذکر کرتا ہوں اور یہ احسان اتنا عظیم الشان اور ایسا دور اثر ہے کہ اس کی عظمت کا صحیح اندازہ شاید بعد کے آنے والے مؤرخین ہی صحیح لگا سکیں گے ہماری نظریں اپنے قرب کی وجہ سے ابھی اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی اہل نہیں۔قوموں کی اخلاقی ترقی اور تنزل کے اتار چڑھاؤ کے خطوط کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اخلاقی گراوٹ ہمیشہ نوجوان نسلوں کے ذریعہ شروع ہوتی ہے گویا ہر دوسری نسل زینے کے اگلے قدم کی حیثیت رکھتی ہے اور بالعموم قوموں کا اخلاقی سفر اپنی ہر اگلی نسل کی اخلاقی گراوٹ کے ذریعہ ایک زینہ اترتے ہوئے شخص کے مشابہ ہوتا ہے۔قرآن حکیم نے اسی خطرے سے مسلمانوں کو مختلف رنگ