تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 504
تاریخ احمدیت۔جلد 22 504 سال 1964ء لاکھ روپے خرچ ہوئے۔جن میں سے - ۴۹۰۰۰ ( انچاس ہزار روپے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے بطور امداد عطا فرمائے۔باقی احباب جماعت کی کوششوں کا ثمر تھا۔اور وہ بھی مقامی احباب کی۔بیرونی جماعتوں سے بھی عطیہ جات وصول ہوئے مگر مقامی احباب کے مقابلہ میں بہت کم۔اس ضمن میں مقامی لجنہ کی مالی قربانی نا قابل فراموش ہے۔مارچ ۱۹۸۵ء تک سات مخلص خواتین نے قیمتی زیورات خدا کے گھر کی تعمیر کے لئے پیش کر دئیے۔اس عرصہ میں مذکورہ اخراجات کے علاوہ مربی ہاؤس پر قریباً ۶۵۰۰۰ پینسٹھ ہزار روپیہ خرچ ہوا۔جن میں سے مبلغ ساٹھ ہزار روپے مرکز نے عطا فرمائے۔احمد یہ ہوٹل لاہور کا دوبارہ اجراء مجلس مشاورت ۱۹۶۴ء کے فیصلہ کے مطابق یکم ستمبر ۱۹۶۴ء کو احمد یہ ہوٹل لاہور کا دوبارہ 94 اجراء B2/34 گلبرگ میں ہوا۔اور اس دور کے پہلے سپرنٹنڈنٹ چوہدری محمد اعظم صاحب بی ایس سی۔ایم۔ای۔ڈی مقرر ہوئے۔یکم نومبر ۱۹۶۴ء کو ہوٹل کا چارج جناب چوہدری رحمت خان صاحب نے لیا۔ابتدا ہوٹل کے لئے ایک ہزار روپیہ ماہوار کرایہ پر ایک کوٹھی لی گئی جو سات چھوٹے اور ایک بڑے کمرے پر مشتمل تھی اور اس میں تقریباً ۲۵ طلباء کی گنجائش تھی۔ماہ دسمبر ۱۹۶۴ء میں طلباء کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔اور بڑے کمرے کی پارٹیشن کرائی گئی۔یکم فروری ۱۹۶۵ء کو مالک مکان نے کوٹھی خالی کرنے کا نوٹس دیا۔جس پر ہوٹل ۲۸ فروری کو راجہ سٹریٹ ۱۳ کینال پارک میں منتقل ہو گیا۔یہ ہوٹل اپنی قدیم روایات کے احیاء کا موجب بنا۔نماز با جماعت بالالتزام ہونے لگی۔نماز فجر کے بعد درس القرآن اور نماز عشاء کے بعد ملفوظات کا درس جاری ہوا۔سلسلہ کے لٹریچر پر مشتمل ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیا۔نیز لا ہور میں احمد یہ ہوشل خدام الاحمدیہ کی تنظیم ایک علیحدہ زعامت کی حیثیت سے مصروف عمل ہو گئی۔مئی ۱۹۶۶ ء کے بعد ہوٹل کوٹھی حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ 108C ماڈل ٹاؤن میں قائم ہوا۔اس ابتدائی دور میں ہوٹل میں مشرقی افریقہ کے دو بورڈران بھی شریک ہوئے اور اس کے ماحول میں تربیت پائی۔۶۷-۱۹۶۶ ء کے دوران نماز مغرب کے بعد ترجمہ قرآن مجید سکھانے کا انتظام کیا گیا۔اور تمام بورڈران بلا استثناء تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کی باقاعدہ ادا ئیگی