تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 503 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 503

تاریخ احمدیت۔جلد 22 503 سال 1964ء پشاور کو بھیجی گئی۔اور پھر منسٹری آف ڈیفنس گورنمنٹ آف پاکستان راولپنڈی کو ارسال ہوئی۔بالآخر سیکشن آفیسر منسٹری آف ڈیفنس نے ۶ ستمبر ۱۹۶۷ء کو مجوزہ پلاٹ بحق صدر انجمن احمد یہ پاکستان لیز کرنے کی منظوری دے دی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی ہدایت پر جناب عبد الغنی رشدی صاحب آف راولپنڈی نے بہت محنت اور اخلاص سے نقشہ بنایا جسے لے کر رفیع الدین بٹ صاحب اور ظہور احمد صاحب جنرل سیکرٹری وسیکرٹری مسجد کمیٹی واہ کینٹ نے خدمت اقدس میں حاضری دی۔حضور نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور مسجد کا نام ”مسجد محمود تجویز فرمایا۔اور یہ نام نقشے پر بھی تحریر فرما دیا۔اور نیچے اپنے مبارک دستخط بھی فرما دیئے۔یہ ے دسمبر ۱۹۶۹ء کا واقعہ ہے۔نقشہ کی منظوری کے بعد تعمیر عمارت کا کام زور وشور سے شروع کر دیا گیا۔چھت ڈالنے کا مرحلہ در پیش ہوا۔تو پاکستان کے ایک مقامی انجینئر نے بہت بڑی RAMP کا نہ صرف سامان دیا بلکہ اپنے ٹرک میں لاد کر لائے اور اپنے آدمیوں سے لگوا بھی دی۔نیز لوہے کے پائپ دیئے۔اسی طرح ایک ٹھیکیدار اسلم صاحب نے دور مکسر مشینیں دیں۔حالانکہ یہ دونوں حضرات غیر از جماعت تھے لیکن انہوں نے یہ سب کام بلا معاوضہ کیا۔ٹھیکیدار مشتاق صاحب نے دوٹیں بھی لگا دیں۔۲۴ جون ۱۹۷۳ء کا دن چھت ڈالنے کے لئے تجویز ہوا۔ٹھیکیدار نے ۹۳ مزدوروں کا انتظام کیا تھا۔جن میں ۲۶ مزدور اور کاریگری اس کے با قاعدہ تھے راولپنڈی سے ۶۹ اور ٹیکسلا سے ۳۶ خدام تشریف لائے۔ایک سو کے قریب مقامی دوست تھے۔ساڑھے دس بجے کے قریب کام شروع ہوا۔ساڑھے تین بجے ۶۷ مزدور کام چھوڑ کر علیحدہ ہو گئے اور ٹھیکیدار سے جھگڑا شروع کر دیا۔انہیں مزدوری دیکر رخصت کر دیا گیا۔اب ٹھیکیدار کے پاس صرف ۲۶ مزدور اور راج تھے۔اس وقت تک بمشکل کام کا تیسرا حصہ ہوا تھا چنانچہ احباب جماعت میدان میں اترے۔ٹھیکیدار کے مزدور مکسر مشینوں پر لگا دیئے گئے چھت پر کنکریٹ ڈالنے کا سارا کام احمدی دوستوں نے سنبھال لیا جو اس قدر تیزی سے ہوا کہ دیکھنے والے حیران و ششدر رہ گئے۔ٹھیکیدار کے نزدیک ایک دن میں اتنی بڑی چھت ڈالنا نا ممکن تھا جسے مخلصین جماعت نے ممکن کر دکھایا۔چنانچہ شام 7:40 بجے آخری تنگاری ڈالی گئی اور احباب دعا کر کے گھروں کو روانہ ہوئے۔۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۶ تک کوئی خاص کام نہیں ہوا۔لیکن ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۴ء تک عمارتی منصوبہ کا اکثر و بیشتر حصہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا جس میں مربی سلسلہ کے لئے کوارٹر کی تعمیر بھی شامل تھی۔مسجد کے تعمیراتی حصوں میں مارچ ۱۹۸۵ء تک قریباً ساڑھے تین