تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 505
تاریخ احمدیت۔جلد 22 505 سال 1964ء کرنے لگے۔اور ہوٹل کا ماحول تعلیم و تربیت کے لحاظ سے نہایت خوشگوار منظر پیش کرنے لگا۔جس میں چوہدری رحمت خان صاحب سپرنٹنڈنٹ کی ذاتی کوشش اور نمونے کا بھاری دخل تھا۔ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے ابتدائی انتظامات 95 ستمبر ۱۹۶۴ء کے مبارک مہینہ کا آغاز لا ہور میں احمد یہ ہوٹل کے اجراء اور ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے ابتدائی انتظامات سے ہوا اور یہ دنیا بھر کے احمدیوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری تھی۔خدا کے اس گھر کی تعمیر شروع کرنے کے لئے میاں محمد صدیق صاحب بانی کلکتہ نے ایک لاکھ روپیہ کا گرانقدر عطیہ دیا۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ اتنی خطیر رقم کسی فرد واحد کی طرف سے مسجد بنانے کے لئے امام وقت کے حضور پیش کی گئی ہو۔اس ضمن میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب قائمقام ناظر اصلاح وارشاد ربوہ نے الفضل (۴ ستمبر ۱۹۶۴ء) کے صفحہ اول پر حسب ذیل اطلاع عام شائع فرمائی:۔مجلس شوری ۱۹۶۴ء کی ایک شق منظور فرماتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ربوہ میں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور اس ضمن میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس غرض کے لئے ایک لاکھ روپیہ مشروط با آمد گنجائش رکھی جائے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے بعد نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے الفضل میں جامع مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کی اپیل شائع کی گئی اور کئی احباب نے حسب استطاعت اس مد میں رقوم بھی بھجوانی شروع کیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تائید و نصرت کے اُن وعدوں کے مطابق جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمائے تھے یکا یک ایسے سامان فرما دیے کہ جس سے جامع مسجد کی تعمیر کے لئے مطلوبہ رقم کی فراہمی کا مسئلہ تسلی بخش طور پر حل ہو گیا۔اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلص اور مخیر دوست کے دل میں یہ تحریک کی کہ جامع مسجد کی تعمیر کا تمام خرج خود برداشت کریں۔چنانچہ انہوں نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں درخواست کی کہ جامع مسجد کی تعمیر کیلئے ان کی طرف سے ایک لاکھ روپیہ قبول فرمایا جائے۔اور انہیں اجازت عطا فرمائی جائے کہ اس سے زائد جور تم خرچ ہوا سے بھی وہ خود پیش کریں۔احباب کے لئے یہ اطلاع باعث مسرت ہوگی کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اُس خوش نصیب