تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 501
تاریخ احمدیت۔جلد 22 501 سال 1964ء انتظام مسجد فضل میں کر دیا گیا تھا۔خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ جلسہ گاہ تیار کی گئی اور مہمانوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔پریس میں ذکر جلسہ سالانہ کے آغاز سے پہلے ۲۲ اگست کو امام مسجد فضل لندن نے ایک پریس کانفرنس کی اور اخباری نمائندوں کو جلسہ سالانہ کی غرض و غایت اور انتظامات کے حوالے سے معلومات دیں اس کو بعض 91 اخبارات نے شائع کیا۔بعض لوکل اخبارات نے اس جلسہ کی کارروائی پرمبنی رپورٹس شائع کیں۔اس جلسہ میں خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے خطاب فرمایا اور حضرت مصلح موعود اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تقاریر کی ریکارڈنگ بھی سنائی گئی۔۱۹۸۴ء کی ہجرت کے بعد سے اب تک برطانیہ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ اس جلسہ سالانہ کو خلیفہ وقت کی شمولیت کی وجہ سے جماعت کے مرکزی جلسہ سالانہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اب اس جلسہ میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں جب کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں لوگ استفادہ کرتے ہیں جلسہ سالانہ کا باشمر شجر اپنی شاخیں اکناف عالم تک پھیلا چکا ہے اور اس کی برکات سے کروڑوں سعید روحیں مستفیض ہورہی ہیں۔مسجد محمود واہ کینٹ جماعت احمد یہ واہ کینٹ کا قیام ۱۹۵۴ء میں ہوا۔پہلے صدر چوہدری جلال الدین قمر صاحب منتخب ہوئے۔۱۹۵۸ء میں مارشل لاء لگا تو مخالفین جماعت کی جھوٹی رپورٹ پر اس وقت کے قائد خدام الاحمدیہ مشتاق احمد صاحب کے خلاف مارشل لاء میں مقدمہ چلا اور انہیں سزا ہوگئی۔اور ساتھ ہی مقامی جماعت کے عہدے داروں پر کڑی نظر رکھی جانے لگی۔نتیجتا واہ کینٹ سے جماعت کا مرکز ختم کر دیا گیا اور ایک سال تک نماز جمعہ ٹیکسلا میں ایک دوست کے مکان پر ہوتی رہی۔حالات بہتر ہوئے تو دوبارہ واہ کینٹ میں مرکز قائم کیا گیا۔نماز جمعہ کے لئے جناب ظہور احمد صاحب کا مکان 37/10EV مقرر ہوا۔جو مسجد کے لئے زمین کے حصول تک رہا۔قبل ازیں کچھ عرصہ کے لئے محترم بشیر احمد صاحب چغتائی صدر جماعت کے مکان پر بھی نماز جمعہ ادا کی جاتی رہی۔تعداد جماعت میں اضافہ کے پیش نظر