تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 502 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 502

تاریخ احمدیت۔جلد 22 502 سال 1964ء یہ ضروری ہو گیا کہ جماعت کی مسجد تعمیر ہو۔چنانچہ P۔O۔F انتظامیہ کی طرف رجوع کیا گیا۔کنٹونمنٹ آفیسر صاحب نے نماز پڑھنے کے لئے تقریباً چھ کنال زمین الاٹ کر دی۔اور پلاٹ کی نشاندہی بھی کر دی۔جلد ہی قبلہ کی صحیح سمت کا تعین کیا گیا اور احباب جماعت نے وقار عمل سے اس قطعہ زمین کو پلیٹ فارم کی شکل دے دی۔اس سلسلہ میں بشیر احمد صاحب چغتائی (مرحوم ) ، چوہدری جلال الدین صاحب قمر، خواجہ نجم الدین صاحب مرحوم شیخ احمد علی صاحب اور جناب کمانڈ رسلیم احمد صاحب کی مساعی ہمیشہ یادگار رہیں گی۔پلیٹ فارم تیار ہو چکا۔تو سب سے اول پانی کا کنکشن لے کر پائپ لائن بچھائی گئی۔پھر صحن کی نشاندہی کر کے بنیادوں کی کھدائی کی گئی۔اور یہ سارا کام مخلصین جماعت نے وقار عمل کے ذریعہ کیا۔۳۱ / اگست ۱۹۶۴ء کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ نے اپنے دست مبارک سے موجودہ صحن کے شمال مشرقی کو نہ میں سنگ بنیا د نصب فرمایا۔اور دعائیں کرتے ہوئے فرمایا کہ ”خدا کرے یہاں سے نور کا ایک فوارہ پھوٹے اور آسمان سے بھی ایک نور نازل ہوا اور یہ دونوں نور مل جائیں“۔عجیب اتفاق ہے کہ کچھ عرصہ بعد (غالبا ۱۹۶۵ء) میں حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری واہ کینٹ تشریف لائے اور احباب جماعت کے ساتھ ایک لمبی دعا کی اور فرمایا۔جب میں دعا کر رہا تھا تو حالت کشف میں میں نے دیکھا کہ نور کا ایک ستون ہے جو اس جگہ سے اٹھ کر آسمان سے جا ملا ہے۔لطف کی بات ہے کہ حضرت مولوی صاحب عین اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں حضرت صاحبزادہ صاحب تشریف فرما تھے۔بنیادرکھے جانے کے بعد بنیادوں کی پتھر سے چنائی کی گئی۔زمین چونکہ غیر ہموار تھی اور غربی جانب کافی گہری تھی لہذا وقار عمل سے بنیاد میں پُر کرنے کا کام مکمل کیا گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے بحیثیت صدر صدرانجمن احمد یہ پلاٹ کی چار دیواری کے لئے۔۴۰۰۰ روپے کا مبارک عطیہ دیا۔چنانچہ کرنل مبارک احمد صاحب کے تعاون سے نہایت سستے ریٹ پر چار دیواری کا کام مکمل ہوا۔۱۶ جون ۱۹۶۵ء کو بشیر احمد صاحب چغتائی صدر جماعت کی طرف سے ایگزیکٹو آفیسر واہ کینٹ کو درخواست دی گئی کہ اس پلاٹ پر ہمیں با قاعدہ مسجد بنانے کی اجازت دی جائے۔ایگزیکٹو آفیسر صاحب نے یہ درخواست ملٹری اسٹیٹ آفیسر ہزارہ سرکل ایبٹ آباد کو No Objection سرٹیفکیٹ کے لئے ارسال کر دی وہاں سے یہ ڈپٹی ڈائریکٹر ملٹری لینڈ ز اینڈ کنٹونمنٹ پشاور ریجن