تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 495 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 495

تاریخ احمدیت۔جلد 22 495 سال 1964ء ایک سال میں مکمل کر کے ۱۹۴۹ء میں فزکس اور ریاضی کا دوہرا امتحان پاس کیا۔جس میں وہ اول آئے۔کیمبرج میں ایک سال ریسرچ میں مصروف رہنے کے بعد ۱۹۵۱ء میں انہیں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بیرنسٹن کے مقام پر اعلیٰ تعلیم کے ادارے میں مطالعہ کے لئے وظیفہ ملا۔جہاں انہوں نے کچھ عرصہ پروفیسر اوپن ہیر کے ساتھ کام کیا۔اس سال وہ اپنے کالج سینٹ جان کیمبرج کے فیلو منتخب ہو گئے۔اگلے برس وہ پاکستان واپس آگئے اور یہاں پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ریاضی کے پروفیسر اور صدر شعبہ مقرر ہوئے۔۱۹۵۴ء میں وہ دوبارہ کیمبرج واپس گئے اور ریاضی کے لیکچرر کی حیثیت سے کام شروع کیا اور ۱۹۵۶ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے اور اس دوران میں وہ ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۸ء میں ایٹم برائے امن کی اقوام متحدہ کی کانفرنس کے سیکرٹری مقرر کئے گئے۔جنوری ۱۹۵۷ء میں جب وہ اس برس کے تھے تو کیمبرج چھوڑ کر امپیریل کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لنڈن چلے آئے اور اب بھی اسی ادارے سے منسلک ہیں۔اس کالج میں ان کے ذمہ تدریس کا جو کام ہے اس کا زیادہ تر تعلق پوسٹ گریجویٹ ریسرچ سے ہے۔آجکل ان کی زیر نگرانی ۲۵ طلباء ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تیاری کر رہے ہیں جن میں سے آدھے بیرونی ملکوں کے ہیں اور ان میں سے آدھے پاکستانی ہیں۔پروفیسر سلام کے کام کی اہمیت کا احساس بین الاقوامی سطح پر ۱۹۵۷ء میں ہوا جب انہیں کیمبرج یونیورسٹی نے ہاپکنز پرائز عطا کیا۔یہ انعام گذشتہ تین برس کے دوران فزکس میں ” سب سے نمایاں انکشاف کے صلہ میں دیا گیا تھا۔اس تحقیق کے ذریعے وہ فزکس میں ایک ابتدائی جو ہر نیوٹونیو کے خالق کہلائے۔اگلے سال کیمبرج یونیورسٹی نے انہیں ایڈمز پرائز دیا اور ۱۹۵۹ء میں صدر پاکستان نے انہیں تمغہ حسن خدمت اور ستارہ پاکستان کا اعزاز دیا۔وہ رائل سوسائٹی کے فیلو بھی مقرر ہوئے اس طرح وہ پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی تھے جنہیں یہ اعزاز ملا۔اپنے انتخاب کے وقت وہ سوسائٹی کے سب سے کم عمر فیلو تھے۔برٹش فزیکل سوسائٹی نے ۱۹۶۰ء میں ایک تمغہ جاری کیا جو گزشتہ دس برس کے دوران سب سے اہم انکشاف پر دیا جانا تھا۔پروفیسر عبد السلام سب سے پہلے سائنسدان تھے جنہیں یہ تمغہ ان کی پیر بیٹی تھیوری پر دیا گیا۔