تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 494
تاریخ احمدیت۔جلد 22 494 سال 1964ء کرنے لگے۔تو میں نے ان پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔ان پر ایسے آڑے ترچھے خطوط اور ایسی علامات لکھی تھیں جن کا تعلق فزکس کے بہت پیچیدہ اصولوں سے ہی ہوسکتا ہے۔میرا خیال تھا کہ وہ عالموں کی طرح خاصے دماغ والے آدمی ہوں گے اور مجھ سے بہت تکلف سے پیش آئیں گے۔کیونکہ ایک عظیم المرتبت سائنسدان کی حیثیت سے ان کی شہرت چار دانگ عالم میں پہنچ چکی ہے۔لیکن پروفیسر سلام ایسے آدمی نہیں نکلے۔وہ بڑے خلیق ، ملنسار، فراخدل تھے اور بڑی دلچسپی سے میرے سوال سن کر ان کے جواب دیتے جاتے تھے۔میری طرح وہ بھی راجپوت ہیں۔ان کا تعلق پنجاب کے بھٹی قبیلہ سے ہے۔جو جھنگ میں آباد ہے۔یہیں وہ ۱۹۲۶ء میں پیدا ہوئے اور یہیں سے وہ ۱۹۴۰ء میں میٹرک کے امتحان میں بیٹھے تھے۔اور پنجاب بھر میں وہ تمام طلباء میں اول آئے۔مجھ سے کہنے لگے کہ ” مجھے اب بھی وہ دن یاد ہے جب نتیجہ ہمارے چھوٹے سے قصبہ میں پہنچا تھا۔اور نائی کا شاگرد جو پیشے میں چند روز ہوئے داخل ہوا تھا، اپنا ہاتھ میرے سر پر صاف کر کے اپنا ہنر چمکانے کی مشق کر رہا تھا۔اس نے میری صورت بالکل بدھ بیراگیوں کی سی بنا دی تھی۔مجھے اپنی اس ہیئت کذائی پر ایسی شرم آئی کہ میں نے اپنے سر پر ایک سفید رومال باندھ لیا اور سر جھکائے میں مئی کی گرم دوپہر میں بازار سے ہوتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔بازار کے دونوں طرف لوگ کھڑے تھے۔انہوں نے مجھے دیکھا۔خوشی سے مبارکباد دینے لگے۔ہندو دوکاندار خاص طور سے مجھے مبارکباد کہہ رہے تھے۔ان سب کو فخر تھا کہ ان کے قصبہ کے لڑکے نے اتنا بڑا اعزاز حاصل کیا ہے۔جھنگ کے لئے یہ بہت بڑی بات تھی کہ پنجاب بھر کے چالیس ہزار طالب علموں میں اس کا لڑکا اول آئے۔اس کامیابی سے عبد السلام کے لئے یونیورسٹی کی تعلیم کے دروازے کھل گئے۔اگلے دو برس تک وہ اپنے قصبے میں رہے اور انٹر وہیں سے کیا۔اس امتحان میں بھی وہ صوبے بھر میں اول آئے۔اس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔جس میں وہ پھر اول آئے تھے۔۱۹۴۶ء میں انہوں نے ایم اے ریاضیات کیا اور تمام طلباء میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔اس اعزاز کے انعام کے طور پر حکومت پنجاب نے انہیں ایک خاص وظیفہ دیا۔جس کی مدد سے وہ اس سال انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہو گئے۔انہوں نے ۱۹۴۸ء میں ریاضی میں آنرز کیا۔اس کے بعد انہوں نے فزکس کا تین سال کا کورس