تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 496
تاریخ احمدیت۔جلد 22 496 سال 1964ء ان کا تازہ ترین کارنامہ ”ذرات کے تناسب کے نظریہ کے نام سے مشہور ہے جس کی بنا پر منفی اومیگا ذرات کا انکشاف ممکن ہوا ہے اور اس نظریہ کی توثیق ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بروکلین نیشنل لیبارٹریز میں کئے جانیوالے تجربات سے بھی ہو گئی ہے۔یہ کارنامہ جس سے فزکس کی حدود کو وسعت ملی ہے اس نوعیت کا ہے جیسے نیوٹن، آئن سٹائن، ڈیراک اور ہیز نبرگ WERNER KARL) (HEISENBERG کے کارنامے ہیں۔فزکس کے بین الاقوامی میدان میں ان کے کارنامے ابھی جاری ہیں۔لیکن پاکستان میں بھی انہوں نے خاصا کام کیا ہے۔۱۹۶۱ء میں پاکستان کی خلائی کمیٹی کا قیام انہیں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔آجکل وہ اقوام متحدہ کے تحت تھیوریٹیکل فزکس کا ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو کوئی بھی ترقی پذیر ملک اقوام متحدہ کی مدد سے ایسا انسٹی ٹیوٹ قائم کر سکتا ہے۔پروفیسر سلام اس انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ہیں۔اور پاکستان نے پیشکش کر دی ہے کہ یہ ادارہ اس ملک میں قائم کر دیا جائے۔پروفیسر عبدالسلام اپنے ایک اور کام پر بجاطور پر فخر کر سکتے ہیں۔یہ پاکستان میں ایٹمی توانائی کے کمیشن کا قیام ہے۔اس کمیشن نے اب تک ۴۰۰ ماہرین کو تربیت دی ہے۔ڈاکٹر عبدالسلام نے کمیشن کے چیئر مین کے ساتھ مل کر بڑی محنت سے اس کے لئے کام کیا ہے اور وہ اس کے ممبر بھی ہیں۔ان کے ذمہ یہ کام ہے کہ کمیشن کی پالیسیاں مرتب کریں اس کی سرگرمیوں کے لئے پروگرام بنائیں اور اسلام آباد میں ایٹمی توانائی کا ری ایکٹر قائم کرنے کے سلسلے میں مشورے دیں۔ان کا خیال ہے کہ عنقریب اسلام آباد میں پہلی ٹیکنیکل یو نیورسٹی قائم ہو سکتی ہے۔ان تمام گونا گوں سرگرمیوں کے علاوہ ۱۹۶۱ء سے صدر پاکستان کے اعلیٰ سائنسی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔وہ اقوام متحدہ کے ایک نو قائم شدہ ادارے ایڈوائزری کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے رکن بھی ہیں۔اعلیٰ اختیارات کا یہ ادارہ اقوام متحدہ کی تنظیموں مثلاً یونیسکو، عالمی ادارۂ صحت اور عالمی موسمیاتی تنظیم کے سائنسی کا موں کی نگرانی کرتا ہے۔ان کے ڈرائنگ روم میں بہت سی ایرانی تصاویر یجی ہیں اور بہت حسین خطوں میں آیات قرآنی کے طغرے لٹکے ہیں۔ان کی لائبریری میں سائنسی اور ٹیکنیکل کتابوں کے علاوہ اسلامی تاریخ، دینیات اور احادیث نبوی پر اردو اور انگریزی میں کتابوں کا بہت نفیس انتخاب موجود ہے۔