تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 488
تاریخ احمدیت۔جلد 22 488 سال 1964ء بھر پور جذبات کے ساتھ آپ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔“ پبلک جلسہ اور پریس کانفرنس د گو اس کانفرنس کا براہ راست مقصد پبلک جلسہ اور پریس کانفرنس کا انعقاد نہیں تھا۔تا ہم ایسے موقعہ پر ایسی پریس کانفرنس مشن کو ترقی دینے کا موجب ہوتی ہے۔چنانچہ اس دفعہ بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔پر یس کا نفرنس کے لئے ایک عرصہ سے تیاری شروع تھی۔ملک کے پریس کو اور محکمہ براڈ کاسٹ کو کافی وقت پہلے اس کانفرنس کی اطلاع دی جا چکی تھی۔اور اس غرض کے لئے پریس نیوز کے طور پر ایک سہ ورقہ مضمون ان کی خدمت میں بھیجا جا چکا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ پریس کانفرنس کامیاب رہی۔اس کے لئے نماز جمعہ کے بعد اڑھائی بجے کا وقت مقرر تھا۔مگر بعض نمائندگان نماز جمعہ سے پہلے ہی تشریف لے آئے۔باقی نمائندگان جمعہ کے بعد خاصی تعداد میں جمع ہو گئے۔جن میں محکمہ براڈ کاسٹ کے نمائندگان بھی شامل تھے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کا نفرنس کے نتیجہ میں وسیع طور پر ملک بھر میں اسلام اور احمدیت کا چرچا ہوا۔میرے مختصر سے تعارفی کلمات کے بعد مکرم جناب باجوہ صاحب نے نمائندگان پریس سے تفصیلاً خطاب کیا۔جس میں آپ نے مشنز کی تبلیغی مساعی کو بیان کرتے ہوئے اسلام کے متعلق یورپ میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کا خاص طور پر تذکرہ فرمایا۔آپ کے اس خطاب کے بعد نمائندگان پریس میں سے بعض نے استفسارات بھی کئے جن کے جوابات دیئے۔اور مستنفسرہ امور کی پورے طور پر وضاحت کر دی گئی۔اس موقعہ پر ڈچ ریڈیو کے نمائندے بھی موجود تھے۔یہ امر از حد خوشی کا موجب ہے کہ ڈچ ریڈیو نے پانچ مرتبہ کا نفرنس کی خبر کو نشر کیا بلکہ ڈچ ریڈیو نے ایک خاص پروگرام اس کا نفرنس کے ضمن میں عربی ممالک کے لئے نشر کیا۔“ پبلک جلسه پبلک جلسہ کے ضمن میں بھی انتظامات کافی وقت پہلے شروع کر دیئے گئے تھے۔جس کی صدارت کے فرائض صوفی منش مستشرق ڈاکٹر فرائی تاج Freitag نے بڑی خوشی سے قبول کئے۔اس جلسہ کے لئے ہفتہ کی شام کا وقت مقررتھا۔مگر اتفاق ایسا ہوا کہ جب جلسہ کا وقت ہونے لگا تو موسم