تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 487
تاریخ احمدیت۔جلد 22 487 سال 1964ء کا نفرنس کا پہلا دن جمعہ کا تھا۔ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم اس موقعہ پر مکرم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت کے نہایت ہی بصیرت افروز خطبہ سے محظوظ ہوئے۔آپ نے سورہ محمد کی آخری آیات کی روشنی میں خلوص اور محبت سے بھرے ہوئے جذبات کے ساتھ جملہ مبلغین بلکہ تمام افراد کو احسن اور دلکش انداز میں ان کے فرائض اور ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے نہایت درد بھرے الفاظ میں فرمایا کہ اگر ہم نے اس وقت اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس نہ کیا اور اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں نہ ڈھالا جیسا کہ وقت کا تقاضا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ہم ان برکات سے بالکل محروم کر دئیے جائیں جو خدا تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا ہے۔خطبہ جمعہ کی نصائح کے علاوہ آپ نے نماز جمعہ کے بعد اور پھر کانفرنس کے آخر پر بھی جملہ مبلغین کو اپنے قیمتی خیالات اور زریں معلومات سے متمتع فرمایا۔اور موجودہ زمانہ کے حالات اور تقاضوں کو صحیح طور پر لوظ رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء کا نفرنس کا اصل مقصود تو یہ تھا کہ اپنی گزشتہ مساعی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔اور یورپ کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق آئندہ کے لئے وسیع پروگرام مرتب کیا جائے اور مناسب تجاویز عمل میں لائی جائیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے ہمارے متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں پوری تفصیل سے ان حالات کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کے یہ اجلاس مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سیکرٹری یورپین مشنز کی زیر صدارت عمل میں آئے۔ان اجلاسوں میں جملہ نمائندگان نے اپنے مشن کی مصروفیات اور کارگزاریوں کو پیش کیا۔نمائندگان کا اس رنگ میں مل کر بیٹھنا اور تبادلہ خیالات کرنا یقیناً بہت فائدہ کا موجب ہے۔جس سے ہر مشن کو اپنا آئندہ کا پروگرام مرتب کرنے میں بہت مددملتی ہے۔کانفرنس کے آخر پر جملہ نمائندگان کا نفرنس نے محبت اور عقیدت کے گہرے جذبات کے ساتھ اپنے پیارے اور محبوب امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ۵۰ سالہ ان تھک خدمات دینیہ کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین ادا کرتے ہوئے آپ کی صحت اور درازی عمر کے لئے اجتماعی دعا کی۔حقیقت یہی ہے کہ آپ نے جس عظیم الشان رنگ میں اسلام اور احمدیت کی خدمت کی ہے اس کی نظیر کسی جگہ کم ہی ملے گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی بے انتہا برکات اور افضال سے نوازے۔آمین علاوہ ازیں جملہ نمائندگان نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی سے گہری عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی وفات کو ایک عظیم قومی نقصان قرار دیا۔اور غم سے