تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 489 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 489

تاریخ احمدیت۔جلد 22 489 سال 1964ء انتہائی خراب ہو گیا اور اتنے زور سے بارش شروع ہو گئی کہ ہم نے خیال کیا کہ جلسہ شاید نہ ہو سکے۔بجلی کی چمک ، بادلوں کی گرج اور اس کے ساتھ ہوا کا زور۔مگر آفرین ہے ان آنے والوں پر جو ایک ایک کر کے آتے گئے۔اور میٹنگ ہال میں ایک رونق سی نظر آنے لگی۔صدر جلسہ کے فون آرہے تھے کہ وہ آنے کے لئے کوشاں ہیں جو نہی انہیں کوئی سواری مل گئی تو وہ آجائیں گے۔مگر اس خیال سے کہ جلسہ کو دیر نہ ہو جائے جلسہ شروع کروا دیا گیا۔جلسہ کی ابتداء برادرم مکرم سید میر مسعود احمد صاحب فاضل کی تلاوت سے ہوئی۔جس کے بعد خاکسار نے مختصراً چند ایک تعارفی کلمات کہے اور پھر تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس جلسہ میں ایک خاص تقریر ہمارے بھائی عبدالسلام صاحب میڈسن کی تھی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے چرچ کو خیر باد کیوں کہا۔اور اس کے بعد پھر اسلام کے دامن سے کیوں وابستہ ہو گئے۔آپ کی تقریر کو احباب نے توجہ سے سنا۔برادرم میڈسن ایک پادری کے لڑکے ہیں اور خدا کے فضل سے اچھی قابلیت کے مالک ہیں۔عیسائیت کے علاوہ آپ نے اسلامی لٹریچر کا بھی گہرے اور وسیع طور پر مطالعہ کیا۔ان کے والد کی طبعی خواہش تھی کہ یہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پادری بنیں مگر انہیں اپنی تسکین کا سامان اسلام کے دامن سے وابستگی میں نظر آیا۔آپ کی تقریر کے علاوہ اس موقعہ پر برادرم چوہدری عبد اللطیف صاحب، برادرم چوہدری کرم الہی صاحب ظفر اور برادرم بشیر احمد صاحب رفیق نے بھی تقاریر کیں۔جو بڑی دلچسپی کے ساتھ سنی گئیں۔آخر پر ہماری ڈچ بہن ناصرہ زمرمان نے تصوف کے رنگ میں رنگین بعض اسلامی احکامات سے حاضرین کو محظوظ کیا۔یہ جلسہ سوا آٹھ بجے شروع ہوا تھا 9 بجے کے قریب ہمارے صدر جلسہ بھی تشریف لے آئے چنانچہ کاروائی کا بقیہ حصہ ان کی صدارت میں عمل میں آیا۔صدر صاحب موصوف اسلام کے بارے میں بڑی محبت اور عقیدت کے جذبات رکھتے ہیں اور جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کے بھی بہت معترف ہیں۔چنانچہ انہوں نے دوران جلسہ میں متعدد مواقع پر اپنے محبت بھرے خیالات کا اظہار کیا۔اور بڑی جرات کے ساتھ جماعت کی اسلامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء