تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 483
تاریخ احمدیت۔جلد 22 483 سال 1964ء کے باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے ) کا وہ نہایت ہی قیمتی مضمون بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا ہے جو پاکستان ٹائمنر کی ۲۲-۲۳ اور ۲۳ جون کی اشاعتوں میں تین اقساط میں شائع ہوا ہے۔مضمون کے پہلے صفحہ کے تیسرے کالم میں ایک بات ایسی ہے جو پورے طور پر درست نہیں ہے اور چونکہ اس میں میرا بھی ذکر آتا ہے اس لئے میں یہ تصیح اس درخواست کے ساتھ بھیج رہا ہوں کہ آپ براہ مہربانی اسے اس طور پر شائع کرنے کا اہتمام فرما ئیں کہ متعلقہ نکتہ کے بارہ میں اگر آپ کے قارئین کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو تو وہ اس سے دور ہو جائے۔اگر مجھے مسٹر محمد منیر کے صحیح ایڈریس کا علم ہوتا تو میں احترام کے ساتھ براہ راست ان کی خدمت میں بھی یہ تصیح ارسال کرتا۔ان وکلاء کے نام درج کرتے ہوئے جو مختلف مفادات کی نمائندگی کی غرض سے باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے میرے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ میں مسلم لیگ اور احمدیوں کی طرف سے پیش ہوا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مجھے صرف مسلم لیگ کی طرف سے ہدایات دی گئی تھیں۔اور میں مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوا تھا۔نہ تو احمدیوں نے بطور وکیل میری خدمات حاصل کیں اور نہ ان کی طرف سے مجھے ہدایات دی گئیں، نہ میں ان کی طرف سے پیش ہوا اور نہ میں نے ان کی نمائندگی کی۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے احمدیوں کی نمائندگی شیخ بشیر احمد صاحب ( جو گزشتہ دنوں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں ) نے کی تھی۔مضمون کی تیسری قسط کے آخری سے پہلے کالم میں صاحب مضمون نے بیان کیا ہے کہ وہ یہ کبھی نہیں سمجھ سکے کہ احمدیوں نے علیحدہ محضر کیوں پیش کیا۔یہ شیخ بشیر احمد یا جماعت احمدیہ کے کسی اور با اختیار نمائندے کا کام ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرے تاہم میں از اول تا آخر یہی سمجھتا رہا ہوں کہ احمدیوں نے علیحدہ محضر مسلم لیگ کی درخواست اور اس کے مشورہ کے ساتھ پیش کیا تھا۔انہوں نے مسلم لیگ کے کیس کی پوری پوری تائید کی تھی اور اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ اُس وقت غیر مسلموں کی طرف سے یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا کہ چونکہ بعض مسلمان احمد یوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے اس لئے مسلمان اس دعوے میں بچے نہیں ہیں کہ ضلع گورداسپور میں وہ اکثریت میں ہیں کیونکہ اس صورت میں کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شمار نہ کیا جائے ضلع میں مسلمان اکثریت میں نہیں رہتے۔تاہم جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارہ میں ایک ایسا شخص ہی صفائی پیش کر سکتا ہے جسے احمدیوں کی طرف سے حقائق پیش کرنے کا اختیار دیا گیا ہو۔اتنا عرصہ