تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 482
تاریخ احمدیت۔جلد 22 482 سال 1964ء آپ فرماتے ہیں کہ ہمشیرہ لطیفہ کریم اکثر میری تعریف کرتی رہتی ہیں۔میں اس سے از حد محبت کرتی ہوں اور اس کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔وہ میری زندگی کے تاریک ایام میں روشنی کے بلند مینار کا کام دیتی رہی ہے۔میں اس کے احسانات کا بدلہ ادا نہیں کر سکتی۔میں آپ کی خدمت میں انشاء اللہ پھر خط تحریر کروں گی۔والسلام ہاجرہ باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمد سیکاکردار 66 83 پاکستان ٹائمنر لاہور کی ۲۲ ۲۳ ۲۴ جون ۱۹۶۴ء کی اشاعتوں میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب محمد منیر صاحب کا ایک مضمون Days to Remember (یادگار ایام) کے زیر عنوان تین اقساط میں شائع ہوا تھا۔جس میں آپ نے باؤنڈری کمیشن اور اس کی کارگزاری سے متعلق بعض واقعات پر روشنی ڈالی تھی۔اس میں بعض باتیں جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا، تصحیح اور وضاحت طلب تھیں مثلاً اس میں بیان کیا گیا تھا کہ محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب مسلم لیگ اور جماعت احمد یہ دونوں کی طرف سے باؤنڈری کمیشن میں پیش ہوئے تھے جو درست نہیں کیونکہ چوہدری صاحب موصوف صرف اور صرف مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔پھر اس میں صاحب مضمون نے یہ بھی لکھا تھا کہ وہ یہ کبھی نہ سمجھ سکے کہ احمدیوں نے علیحدہ محضر نامہ پیش کرنا کیوں ضروری خیال کیا۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد اول الذکر بات کی تصحیح اور دوسری بات کی وضاحت کے طور پر مورخہ ۸ جولائی ۱۹۶۴ء کے پاکستان ٹائمز میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے خطوط شائع ہوئے ہیں۔چونکہ اس مضمون (جس کا ترجمہ بعد ازاں نوائے وقت میں بھی شائع ہوا) سے غلط نبی پیدا ہونے کا امکان تھا۔اس لئے ان ہر دوا ہم وضاحتی خطوط کا اردوترجمہ الفضل ۱۰ جولائی ۱۹۶۴ء نے شائع کر دیا جو یہ ہے۔محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا مکتوب جناب عالی! میں نے ابھی ابھی اپنے محترم دوست سابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر محمدمنیر ( جو ۱۹۴۷ء