تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 484 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 484

تاریخ احمدیت۔جلد 22 484 سال 1964ء گزرنے کے بعد اور اس حال میں کہ میں یورپ میں بیٹھ کر یہ سطور سپر د قلم کر رہا ہوں میرے لئے معاملہ کے اس پہلو سے متعلق اصل صورت حال کو جامعیت کے ساتھ ذہن میں لانا مشکل ہے محترم شیخ بشیر احمد صاحب کا خط ”جناب عالی ! محمد ظفر اللہ خاں انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس۔دی ہیگ 66 مسٹر منیر کے معلومات افزا مضمون میں جماعت احمدیہ کا بھی ذکر آتا ہے۔یہ ذکر جس رنگ میں کیا گیا ہے وہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جوا با تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کر دیا جائے۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے جماعت احمدیہ کی نمائندگی کا اعزاز میرے حصہ میں آیا تھا۔مجھے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میں یہ پڑھ کر سخت پریشان ہوا کہ مسٹر منیر کو اس بات کا علم نہیں کہ جماعت احمدیہ نے اپنا کیس الگ کیوں پیش کیا تھا۔اگر وہ اپنا مضمون برائے اشاعت اخبار میں بھیجنے سے پہلے مجھ سے استفسار کر لیتے تو غلطی کے امکان کو بآسانی دور کیا جاسکتا تھا۔حکومت برطانیہ نے باؤنڈری کمیشن کے روبرو پیش ہونے کے لئے صرف تین فریق تسلیم کئے تھے۔یعنی کانگرس ، مسلم لیگ اور سکھ۔احمدیوں کا ان میں کوئی ذکر نہ تھا۔سکھوں کی طرف سے پیش کردہ میمورنڈم میں یہ استدلال پیش کیا گیا تھا کہ چونکہ گورو گوبند سنگھ کی جائے پیدائش ( گوبند پور ) گورداسپور میں واقع ہے اس لئے اس خاص امر کا لحاظ رکھنے سے مسلمانوں کی ۴ فیصد کی اکثریت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے مسٹر ریڈ کلف کے دائرہ کار میں یہ بات شامل تھی کہ وہ مسلم اکثریت کے علاقوں کو غیر مسلموں کے علاقوں سے الگ کر کے ان کی حد بندی کر دیں۔اس کام کی انجام دہی میں انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دیگر عوامل کو بھی ملحوظ رکھیں۔سکھوں کی طرف سے یہ دلیل اس بنیاد پر ہی پیش کی گئی تھی۔چنانچہ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صورت حال کا یہ ایک پہلو ہی اپنی ذات میں اتنا اہم ہے کہ محض اس بناء پر ہی ضلع گورداسپور کو پاکستان کی بجائے انڈین یونین میں شامل کرنا ضروری ہے اس دعویٰ کو بے اثر کرنے کی غرض سے اس کے بالمقابل ایک اور دعویٰ پیش کرنے کے لئے مسلم لیگ نے یہ فیصلہ کیا کہ جماعت احمدیہ کو علیحدہ ایک محضر پیش کرنا چاہیئے اور اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی کہ وہ اپنے حصہ کے مقررہ وقت میں سے ۴۵ منٹ فارغ کر دے گی تاکہ میں باؤنڈری کمیشن سے خطاب کر سکوں۔