تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 469 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 469

تاریخ احمدیت۔جلد 22 469 سال 1964ء پیش کی۔اس وفد میں جس کی منظوری سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے عطا فرمائی تھی مرزا عبدالحق صاحب کے علاوہ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق حج مغربی پاکستان ہائی کورٹ لاہور، صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ، (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب ناظم وقف جدید، خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب سابق مجاہد بلا دعر بیہ ،مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق مربی انچارج دعوت الی اللہ مشرقی افریقہ، چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ شیخوپورہ، جناب ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی امیر جماعت احمد یہ حیدر آباد، صوفی عبدالغفور صاحب سابق مبلغ امریکہ، مرز ا لطف الرحمن صاحب سابق مبلغ جر منی شامل تھے۔اسی روز جناب گورنر صاحب موصوف نے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے وفد کو بھی ملاقات کے لئے وقت دیا ہوا تھا۔چنانچہ جماعت احمدیہ پاکستان اور احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے دونوں وفود کی گورنر صاحب سے ایک ساتھ ملاقات ہوئی۔ملاقات کے آغاز میں جماعت احمدیہ پاکستان کے وفد کے لیڈر مرزا عبدالحق صاحب نے تفصیل کے ساتھ اس امر پر روشنی ڈالی کہ جماعت احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کا مامور مانتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کو کل ادیان پر غالب کرنے اور اسلام کو دنیا میں سر بلند کرنے کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک آپ کا کلام اور آپ کی تصنیف فرمودہ کتب ایک مقدس بنیادی لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس مقدس بنیادی لٹریچر کے کسی حصہ کی ضبطی کا مطلب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد کو حصول ہدایت کے ایک اہم اور بنیادی ذریعہ سے محروم کر دیا جائے۔آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ واضح فرمایا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے جو کچھ بھی تحریر فرمایا ہے اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے خالص اسلام کے مفاد میں تحریر فرمایا ہے۔اس سے کسی کی دل آزاری یا اسلامی مفاد کو ضعف پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مرزا عبدالحق صاحب کی اس تفصیلی گفتگو کے علاوہ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے قانونی نقطۂ نگاہ سے اس امر پر روشنی ڈالی کہ کسی بھی فرقے کی بنیادی کتب کو ضبط کرنا آئین پاکستان مروجہ قوانین اور انصاف کے منافی ہے اور یہ کہ اس قسم کے اقدامات سے مذہبی آزادی کسی صورت بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔وفد کی معروضات سننے کے بعد گورنر صاحب موصوف نے فرمایا کہ حکومت کو کشف والے حصہ کے سوا کتاب کے کسی اور حصہ پر اعتراض نہیں ہے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ کتاب مذکور کے حاشیہ صفحہ 11 میں