تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 468 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 468

تاریخ احمدیت۔جلد 22 468 سال 1964ء جائے کیونکہ ہر احمدی کے نزدیک خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں رہتا ہو یہ کتاب مقدس ہے اور ہر احمدی کیلئے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور گذشتہ ۶۳ سال سے دنیا میں اشاعت پذیر رہی ہے۔ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ آپ کے ملاحظہ کے لئے ہائی کورٹ لاہور کے مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم کے ایک فیصلہ کے مندرجہ ذیل الفاظ بھی نقل کر دیں جو انہوں نے مقدمہ سٹیٹ بنام عطاء اللہ شاہ بخاری ۱۹۳۶ء میں لکھے ہیں۔لکھتے ہیں:۔"On the other hand, what the Mirza Sahib said and did thirty, forty or fifty years ago could not possibly afford any provocation for promoting enmity between the Ahrars and the Qadianis in 1933, and the evidence on which the learned Session Judge has based his remark is therefore not relevant matter۔" 74 ترجمہ:۔علاوہ ازیں جو کچھ مرزا صاحب نے تھیں، چالیس یا پچاس سال قبل کہا اور کیا وہ احرار اور قادیانیوں کے درمیان ۱۹۳۳ء میں عداوت یا منافرت بڑھانے کا محرک یا موجب نہیں ہو سکتا۔اس لئے وہ شہادت ( یعنی مرزا صاحب کے الفاظ) جس پر بناء رکھ کر فاضل سیشن جج نے ریمارک کئے ہیں وہ غیر متعلق ہے ( یعنی ان پر انے الفاظ پر بنیادرکھ کر یہ نتیجہ سیشن حج کو نہیں نکالنا چاہیئے تھا “ جناب عالی! ہم یقین رکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا وجوہات کی روشنی میں آپ اس معاملہ کو وسعت نظر سے زیر غور لا کر دنیا بھر کے احمدیوں کو شکریہ کا موقع عطا فرمائیں گے۔ہم ہیں خاکساران اراکین وفد منجانب صدر انجمن احمدیہ پاکستان۔ربوہ مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ سرگودھا۔شیخ بشیر احمد سابق حج ہائی کورٹ لاہور۔مولانا ابوالعطا ء ایڈیٹر رسالہ الفرقان۔مرزار فیع احمد صدر مجلس خدام الاحمدیہ۔مرزا طاہر احمد ناظم وقف جدید۔شیخ مبارک احمد نائب ناظر اصلاح وارشاد صوفی عبدالغفور سابق مبلغ امریکہ۔مرزا الطف الرحمن سابق مبلغ جرمنی۔نواب آف کالا باغ سے جماعتی وفد کی ملاقات ۲۸ جولائی ۱۹۶۴ء کو جماعت کے ایک نمائندہ وفد نے جناب مرزا عبدالحق صاحب کی سرکردگی میں جناب ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان سے ملاقات کر کے یہ عرضداشت ان کی خدمت میں