تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 470
تاریخ احمدیت۔جلد 22 470 سال 1964ء درج شدہ کشف کی دو سطریں جو بعض طبائع پر گراں گزرتی ہیں حذف کر دی جائیں۔احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے وفد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رقم فرمودہ ان فقروں کو نعوذ باللہ لغزش قلم (SLIP OF PEN) اور سہو کتابت کا نتیجہ قرار دے کر انہیں حذف کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔اس پر جماعت احمدیہ کے وفد نے یک زبان ہو کر لغزش قلم اور سہو کتابت کی پر زور تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اس عبارت میں اختصار کے ساتھ اپنے ایک کشف کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اس قسم کے کشف دوسرے بزرگوں اور ائمہ کرام کو بھی ہوئے ہیں اور ان کی کتابوں میں چھپے ہوئے موجود ہیں۔کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اس کشف کو اپنی کتاب براہین احمدیہ میں تفصیل سے درج فرمایا ہے اور وہاں مادر مہربان کے الفاظ لکھ کر خود اس کی تشریح فرما دی ہے۔دیگر بزرگان اسلام کے اسی قسم کے کشوف اور خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی تشریح کی موجودگی میں کتاب مذکور میں درج شدہ فقرے قطعاً قابل اعتراض نہیں ہیں۔جماعت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی تحریر کے کسی ایک لفظ یا شعشہ کو بھی بدلنے کی مجاز نہیں۔اس موقعہ پر شیخ بشیر احمد صاحب نے بھی بعض قانونی نکات پیش کر کے فقرات حذف کرنے کی مخالفت کی۔اس مرحلہ پر انجمن اشاعت اسلام لاہور کے وفد کے ایک ممبر نے براہین احمدیہ میں سے کشف کے اصل الفاظ پڑھ کر سنائے۔بعد ازاں یہ تجویز پیش ہوئی کہ کتاب ایک غلطی کا ازالہ میں درج شدہ کشف علی حالہ برقرار رہے اور اس کے نیچے حاشیہ میں نشان دے کر براہین احمدیہ میں درج شدہ پورے کشف کی عبارت پبلشر کی طرف سے اس نوٹ کے ساتھ شائع کر دی جائے کہ براہین احمدیہ کا حوالہ درج ذیل ہے۔بالآخر گورنر صاحب موصوف نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور جماعت احمدیہ کے وفد نے بھی اس کے ساتھ اتفاق میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا کیونکہ اس سے کتاب کا متن علی حالہ قائم رہا۔اور نہ اس میں کسی فقرے یا لفظ کی تبدیلی یا تحریف عمل میں آئی۔اس گفتگو کے بعد ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے کھڑے ہو کر گورنر صاحب موصوف کا شکر یہ ادا کیا اور اعادہ کے رنگ میں کہا کہ اس گفتگو کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ایک غلطی کا ازالہ میں کشف کی درج شدہ عبارت من و عن رہے البتہ اس پر یا کا نشان دے کر حاشیہ میں مرتب یا پبلشر کی طرف سے اس نوٹ کے ساتھ کہ اس کشف کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بایں الفاظ رقم فرمایا ہے براہین احمدیہ کی اصل عبارت درج کر دی جائے