تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 461 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 461

تاریخ احمدیت۔جلد 22 461 سال 1964ء کیا گیا ہے وہ جماعت احمدیہ کا جز و ایمان ہے اور دنیا میں کسی کو حق نہیں کہ وہ ان کو اس ایمان اور اس کے اظہار سے روک سکے ورنہ یہ مداخلت فی الدین ہوگی جو دستور پاکستان کے خلاف ہے۔اور جسے جماعت احمدیہ کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کر سکتی۔نہ ہی کسی مذہبی جماعت کے لئے اس قسم کی مداخلت قابل برداشت ہو سکتی ہے۔۴۔جماعت احمد یہ ایک خالص مذہبی جماعت ہے جس کا سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں۔جماعت احمدیہ حکومت پاکستان کی دل سے وفادار ہے اور ہر رنگ میں ملک کی ترقی چاہتی ہے۔حکومت پاکستان کا یہ ہرگز مقصد نہیں ہو سکتا کہ ایسی جماعت کے دلوں کو ٹھیس پہنچے اور وہ یہ محسوس کریں کہ ان کو زبردستی اور جبر سے اپنے عقائد سیکھنے یا ان کے اظہار سے روکا جاتا ہے۔۵- گذشتہ ۶۳ سالوں میں یہ کتاب متحدہ ہندوستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں کئی دفعہ چھپ کر اشاعت پذیر ہوئی اور کسی حکومت وقت نے یہ نہیں سمجھا کہ اس کتاب سے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پھیلنی ممکن ہے اور نہ حال ہی میں کوئی ایسی وجہ پیدا ہوئی جو اس کتاب کی ضبطی کا باعث ہو سکتی۔۔علاوہ ازیں یہ ظاہر ہے کہ مغربی پاکستان میں تو یہ کتاب ضبط شدہ تصور ہو گی لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں یہ کتاب بدستور اشاعت پذیر رہے گی اور اس کا یہ اثر پیدا ہونا لازمی ہے کہ باقی دنیا میں جو مذہبی آزادی احمدیوں کو حاصل ہے مغربی پاکستان میں جو جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اسے آزادی حاصل نہیں ہے۔یہ ایک ایسا غور طلب امر ہے جس کے متعلق زیادہ عرض کرنا ضروری نہیں۔اسی طرح دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی یہ اثر پیدا ہونا لازم ہے کہ مغربی پاکستان میں مذہبی آزادی پر بے جا پابندیاں عائد ہیں یہاں تک کہ جو کتاب گذشتہ ۶۳ سال میں اشاعت پذیر ہو رہی ہے اب اسے ضبط کر لیا گیا ہے۔دور و نزدیک ایسا اثر پیدا ہونے دینا حکومت کی دانشمندی اور حکمت اور دوراندیشی اور نیک نامی کے منافی ہوگا اور ہم بطور ایک وفادار رعایا دل سے آرزومند ہیں کہ پاکستان کے متعلق یہ اثر کہیں بھی پیدا نہ ہونے پائے اور ہم دل سے اس بات کی دعا کرتے ہیں کہ پاکستان کی نیک نامی دنیا بھر میں روز افزوں ترقی کرے۔ے۔ایک اثر اس ضبطی کا لازمی طور پر بہت ہی افسوسناک ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے مخالف اور دشمن عناصر حکومت کے اس اقدام سے از سر نو ابھرنے شروع ہو گئے ہیں اور گو وہ بظاہر حکومت کو اس اقدام پر مبارکباد دے رہے ہیں لیکن دل میں اس بات سے خوش ہیں کہ انہیں شورش پیدا