تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 460 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 460

تاریخ احمدیت۔جلد 22 460 سال 1964ء ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ایک وفادار اور جان شار طبقہ کے دینی حقوق کی نہ صرف حفاظت نہیں کر سکتی بلکہ خودان کو ایسی آزمائش میں ڈال رہی ہے جس کو وہ قطعا پسند نہیں کرتے“۔اس نوٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی جماعتوں اور احباب کی طرف سے احتجاجی خطوط اور قراردادیں موصول ہونا شروع ہو گئیں۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد رانجمن احمدیہ پاکستان کی زیر ہدایت حکومت کے ساتھ خط و کتابت کے بعد مورخہ یکم جولائی ۱۹۶۴ء کو جماعت کے ایک وفد نے خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی قیادت میں جناب ہوم سیکرٹری صاحب حکومت مغربی پاکستان سے ملاقات کی۔اس وفد میں مولانا شمس صاحب کے علاوہ صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب ابن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ گوجرانوالہ اور چوہدری فتح محمد صاحب آف ہر یکے ٹرانسپورٹ شامل تھے۔اس ملاقات کے بعد ضبطی کے حکم کے خلاف ایک عرضداشت حکومت مغربی پاکستان کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چنانچہ علماء سلسلہ نے جماعت کے چیدہ وکلاء کے مشورہ سے چودہ صفحات پر مشتمل ایک عرضداشت مرتب کی اس عرضداشت کی ایک مصدقہ نقل شعبہ تاریخ احمدیت کے ریکارڈ میں موجود ہے جو مولانا شیخ مبارک احمد صاحب مجاہد بلاد افریقیہ و عربیہ کا عطیہ ہے۔( جس کے ساتھ ۵۹ صفحات پر پھیلے ہوئے ضمیمے بھی منسلک کئے گئے۔اس تاریخی عرضداشت کا مکمل متن سپر دقر طاس کیا جاتا ہے۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم عرضداشت بخدمت جناب گورنر صاحب مغربی پاکستان جناب عالی ! مندرجہ ذیل امور نہایت ادب سے پیش خدمت ہیں :۔ا۔حکومت مغربی پاکستان کی طرف سے بذریعہ نوٹیفکیشن مورخہ ۶۴-۶-۱۷ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد کا رسالہ ایک غلطی کا ازالہ تصنیف شدہ ۵ نومبر ۱۹۰۱ء ضبط کیا گیا ہے۔۲۔رسالہ ایک غلطی کا ازالہ پہلی مرتبہ ۵ نومبر ۱۹۰۱ء کو شائع ہوا۔اس ۶۳ سال کے لمبے عرصہ میں یہ کبھی ضبطی کے لائق نہیں سمجھا گیا نہ کبھی کسی کو اس پر اعتراض پیدا ہوا۔۳۔یہ رسالہ جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے لکھا گیا ہے نہ کسی اور کو۔جو کچھ اس رسالہ میں بیان