تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 459 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 459

تاریخ احمدیت۔جلد 22 459 سال 1964ء نہ اٹھارکھیں گے تو خدا تعالیٰ انہیں ضرور کامیابی عطا کرے گا اور ان کی کوشش میں کوئی کمی رہ جائے گی تو اسے خود پورا کر دے گا۔64 درس قرآن کا مبارک سلسلہ جون ۱۹۶۴ء سے (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے مسجد مبارک میں درس قرآن مجید کا ایک مبارک سلسلہ شروع فرمایا۔آپ ہرا تو ار اور بدھ کو نماز مغرب سے قبل نصف گھنٹہ تک درس دیا کرتے تھے اور قرآنی علوم و معارف بیان فرماتے تھے۔کتاب ایک غلطی کا ازالہ کی ضبطی اور اشاعت 65 ۲۳ جون ۱۹۶۴ء کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ حکومت مغربی پاکستان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف ” ایک غلطی کا ازالہ ضبط کر لی ہے ( یہ ضبطی ۱۷ جون ۱۹۶۴ء کو بذریعہ نوٹیفکیشن عمل میں آئی۔اس افسوسناک خبر کے منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر کی احمد یہ جماعتوں میں بے چینی اور اضطراب کی زبر دست لہر دوڑ گئی۔چنانچہ فورا ہی الفضل نے ایک خصوصی نوٹ کے ذریعہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ حکم فوری طور پر واپس لے لے۔نیز لکھا کہ یہ ایسی تحریر ہے جو احمدیوں کی ایمانیات سے تعلق رکھتی ہے۔احمدیوں کا ایمان ہے کہ کتابچہ کا حرف حرف مقدس ہے اور ان کے ایمان کا جزو ہے۔اس لحاظ سے اس کی ضبطی کو ہم حکومت کی طرف سے براہ راست مداخلت فی الدین تصور کرتے ہیں اور یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان میں احمدیوں کو آزادی ضمیر کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جو دستور پاکستان کے بنیادی اصولوں میں سے اہم ترین اصول ہے۔ہمیں تادم تحریر ان تفصیلات کا کوئی علم نہیں ہے جن کی بناء پر اس رسالہ کو ضبط کر نا مناسب سمجھا گیا ہے تاہم کوئی بھی وجوہات ہوں خود یہ امر کہ ایک رسالہ جو ۱۹۰۱ء سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں شائع ہو چکا ہے اس کو آج تقریباً پون صدی کے بعد یک دم ضبط کر لینا ایک ایسا واقعہ ہے جو قطعاً کوئی مناسب عذر نہیں رکھتا۔پھر یہ جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے ایک ایسا صدمہ ہے جس کو وہ قطعا برداشت نہیں کر سکتے اور ہم یقین کرتے ہیں کہ حکومت نے رسالہ کو ضبط کر کے نہ صرف ہمارے دستوری حقوق کو ضرب پہنچائی ہے بلکہ اپنی کمزوری اور بے احتیاطی کا بھی اظہار کیا