تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 458 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 458

تاریخ احمدیت۔جلد22 458 سال 1964ء (حضرت )صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی احمدی بچوں کیلئے قیمتی نصائح اس سال میٹرک میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کا نتیجہ بہت شاندار رہا۔نتیجہ کی اوسط نوے فیصد رہی۔جبکہ بورڈ میں کامیاب امیدواروں کا مجموعی تناسب ۱۰ ۵۰۰ فیصد تھا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف سے ننانوے طلباء شریک امتحان ہوئے جن میں سے اکتالیس فرسٹ ڈویژن میں اور پینتالیس سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوئے۔۱۲ جون ۱۹۶۴ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تقریب تشکر منائی گئی۔(حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اس موقعہ پر احمدی بچوں کو نہایت قیمتی نصائح سے نوازا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔احمدی طالبعلموں کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے لئے ایک نصب العین مقرر کیا ہے اور اس کے لئے ایک پروگرام بنایا ہے۔وہ نصب العین اور وہ پروگرام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں دیا ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔اس نصب العین کا پہلا حصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ الہاماً یہ دعا سکھائی ہے کہ رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ کہ اے خدا ہم پر حقائق الاشیاء منکشف فرما۔یہ دعا ریسرچ اور تحقیق و توفیق کے ایک زبر دست پروگرام پر مشتمل ہے۔جب انسان کوئی دعا کرتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے لئے کوشش بھی کرے۔پس احمدی طالبعلموں کا ایک مطمح نظر یہ ہے کہ وہ انتھک محنت اور دعاؤں سے کام لیتے ہوئے ریسرچ کرتے اور حقائق الاشیاء معلوم کرتے چلے جائیں۔خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ نصب العین کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو احمدی بچے بھی ریسرچ اور دعاؤں سے کام لیتے ہوئے حقائق الاشیاء معلوم کرنے کی کوشش کریں گے انہیں علم و معرفت میں ایسی ترقی نصیب ہوگی اور ان کے ذہنوں میں ایسی جلاء اور روشنی پیدا ہوگی کہ وہ اپنے نشانوں اور اپنے دلائل کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔یعنی وہ نہ صرف علوم جدیدہ کے حملوں سے اسلام کو بچائیں گے اور اس کا دفاع کریں گے بلکہ وہ خود علوم جدیدہ پر حملہ آور ہو کر ان کی غلطیاں اور ان کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں کو دنیا پر ظاہر کر دکھائیں گے۔یہاں تک کہ خدا سے برگشتہ دنیا اسلام میں داخل ہو کر خدائے واحد کے آستانہ پر آ جھکے گی۔پس یہ دو مقاصدان کے سامنے رکھے ہیں۔اس نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ دعا کریں گے اور کوشش میں کسر