تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 457
تاریخ احمدیت۔جلد 22 457 سال 1964ء لے کر تمام دنیا میں پھیل گئی ہے تا کہ اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کو پھر دنیا میں قائم کریں۔غرض ہماری جماعت اس روحانی جہاد میں مصروف ہے۔اس لئے تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس مقصد کی کامیابی کے لئے ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اور ہماری مددکر ہیں۔آپ نے فرمایا افریقہ میں لاکھوں افراد عیسائیت اور بت پرستی کو ترک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔امریکہ کے نو مسلموں کی مالی قربانی ہم سب سے بڑھ چکی ہے۔گویا عیسائی والدین کے بچے اب اسلام کے لئے قربانیاں کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے جو اسلام کی ترقی کے وعدے حضرت مسیح موعود سے کئے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے اور تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے اور اسلام ہی تمام دنیا پر غالب آئے گا۔اس لئے وہ خوش قسمت ہے جو اس جہاد میں شامل ہو کر خدائی انعامات کا وارث بنتا ہے۔آخر میں آپ نے دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ ہمیں خدائی تقدیر سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس تقریر کا پشتو ترجمہ مولانا چراغ الدین صاحب نے ساتھ ساتھ کیا۔دعا پر یہ اجلاس برخاست ہوا۔اس کے بعد تمام حاضرین کو دو پہر کا کھانا جماعت شیخ محمدی کی طرف سے پیش کیا گیا اور اس سے فراغت کے بعد دو بجے دوپہر پشاور واپسی ہوئی۔جہاں سے آپ سوزگی ( چارسدہ) مکرم غلام سرور خانصاحب کے فارم میں تشریف لے گئے۔وہاں مختصر قیام کے بعد نوشہرہ مکرم ڈاکٹر عبدالقیوم خانصاحب کے بنگلہ پر تمام جماعت سے ملاقات کی اور چائے نوش فرمائی۔چھ بجے کے قریب آپ وہاں سے عازم ربوہ ہو گئے۔وقف جدید کی وقف زندگی کے لئے بھر پورا پیل 61 (حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید کے قلم سے الفضل ۲۱ مئی ۱۹۶۴ء میں مخلصین جماعت کے نام حسب ذیل اپیل شائع ہوئی:۔وقف جدید انجمن احمد یہ ربوہ کا کام دن بدن وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے اور نئے واقفین زندگی کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔پس تمام مخلصین جماعت سے اور خصوصاً سندھی اور پشتو جاننے والے اور پنجابی نو جوانوں سے گزارش ہے کہ وہ خدمت دین کے لئے آگے قدم بڑھائیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اپنی زندگیاں اس نیک مقصد کے لئے وقف کریں۔