تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 456 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 456

تاریخ احمدیت۔جلد 22 456 سال 1964ء علیہ السلام کا بھی یہی دعوی تھا کہ وہ خدا تعالیٰ سے علم پا کر سکھاتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم و عدل مقرر فرمایا ہے یعنی جو فیصلہ آپ فرما ئیں گے اس کا ماننا تمام ماننے والوں پر ضروری ہوگا۔چنانچہ حضور خود فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے مجھے حکم عدل ٹھہرایا ہے اور تم نے مان لیا ہے۔پھر نشانہ اعتراض بنانا ضعیف ایمان کا نشان ہے۔حکم مان کر تمام زبانیں بند ہو جانی چاہئیں۔اب تم خود سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے جو میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم عدل مانا ہے۔تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا۔لیکن اگر تم نے بچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے 60 سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔اس حوالہ کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ جن لوگوں نے حضور کو نہیں مانا وہ اگر آپ سے اختلاف رکھتے ہیں تو ان کو یہ حق حاصل ہے لیکن جن لوگوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم عدل مان لیا ہے وہ اگر آپ کے فیصلہ سے انحراف کرتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہے۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے خاص طور پر غیر مبائعین سے اپیل کی کہ اگر وہ صدق دل سے حضور کو حکم و عدل مان لیں تو تمام اختلافات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔آخر میں آپ نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی آمد کی اصل غرض یہ تھی کہ آپ ایک ایسی جماعت پیدا کریں جو اخوت و محبت کے اعلیٰ مقام پر ہو۔جو رنگ، نسل اور قوم کی حدود سے بالا ہے۔چنانچہ ہم اس محبت کے جذبہ کی وجہ سے یہاں آئے ہیں تا کہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ ہماری محبت اور تعلق اس لئے ہے کہ ہمیں ایسے دوستوں اور جانثاروں کی ضرورت ہے جو اسلام کو اکناف عالم میں پھیلائیں کیونکہ اس زمانہ میں اسلام ایک زبر دست حملہ کی زد میں ہے۔اسلام کے خلاف اس قدر کتب لکھی گئی ہیں کہ ان کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ایک بہت بڑا پہاڑ بن سکتا ہے اور کئی لاکھ مسلمان جو سید اور پٹھان کہلاتے تھے حلقہ بگوش عیسائیت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے سیدنا حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی قائم کردہ جماعت اس مقصد کو