تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 439 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 439

تاریخ احمدیت۔جلد 22 439 سال 1964ء برٹش گی آنا میں ایک یورپی باشندہ کا قبول اسلام برٹش گی آنا سے مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ وقتا فوقتا بیعتیں بھجواتے رہتے ہیں۔تازہ ڈاک میں جو بیعتیں انہوں نے بھجوائی ہیں ان میں ایک یورپین کی بیعت بھی ہے۔برٹش گی آنا سے یہ پہلی بیعت ہے جو کسی یورپین نے کی ہے۔نواحمدی کا پہلا نام Mr۔Davey ہے اور آپ آئر لینڈ کے باشندہ ہیں۔جلسہ تقسیم اسناد تعلیم الاسلام کالج ربوہ 49 ۱۹ اپریل ۱۹۶۴ء کو جلسہ تقسیم اسناد (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے (آکسن) پرنسپل کی صدارت میں منعقد ہوا۔مہمان خصوصی حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری اپنی علالت کے باعث تشریف نہیں لا سکے تھے۔آپ کی قائمقامی مولانا جلال الدین صاحب شمس نے فرمائی۔چنانچہ آپ محترم پرنسپل صاحب کے ساتھ اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو کالج کے طالب علم حافظ محمد سلیم صاحب نے کی۔ازاں بعد محترم پروفیسر میاں عطاء الرحمان صاحب نے علی الترتیب بی ایس سی آنرز اور بی اے آنرز نیز بی ایس سی اور بی اے کے فارغ التحصیل طلباء پیش کئے۔جنہیں محترم پرنسپل صاحب نے باری باری اسناد عطافرمائیں۔اسناد تقسیم فرمانے کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ خطبہ اسناد حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ارشادفرما رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ اگر چہ حضرت حافظ صاحب مدظلہ علالت طبع کے باعث به نفس نفیس یہاں تشریف فرما نہیں تا ہم ہماری گذارش پر آپ نے جو خطبہ ارسال فرمایا ہے اسے محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس پڑھ کر سنائیں گے۔آپ نے حضرت حافظ صاحب کی ذات گرامی کا تعارف کرانے کے بعد کالج کی سالانہ روداد پیش کرنے سے قبل حکومت اور ارباب حل و عقد کی توجہ بعض ضروری امور کی طرف مبذول کرائی۔آپ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا تعلیمی بحران ابھی ختم نہیں ہوا کر تعلیمی کمیشن کی مجوزہ اصلاحات معرض تنفیذ میں آتے ہی بعض پر اسرار حوادث کا شکار ہو گئیں۔یہی