تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 438 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 438

تاریخ احمدیت۔جلد 22 438 سال 1964ء یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جب دنیا کے کنارے تو کیا قادیان کے کناروں میں بھی کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ہمارے مبلغین نشان ہیں اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے۔وہ بھی نہایت مشکل حالات میں بڑی بڑی قربانیاں کر کے سلسلہ کے کام کو قربانیاں کر کے سر انجام دے رہے ہیں۔ایسی قربانیاں کہ بعض وقت جب مجھے معلوم ہوا ہے تو جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ہے کہ اتنی قربانی بھی ہوسکتی ہے۔ہماری جماعت کا قاعدہ نہیں ہے کہ ہم کسی کی تعریف کریں اور نام بنام کسی کی قربانی کو پیش کریں۔لیکن یہ یقین کریں کہ ہماری جماعت کے جو مبلغین ہیں یا واقفین ہیں وہ بڑی قربانی کرنے والے ہیں۔اور ایسے حالات میں قربانی کرنے والے ہیں کہ ان کا تصور بھی انسان کو بہت فکر میں ڈال دیتا ہے۔پھر اس کے بعد جماعت کے تمام امراء اور وہ تمام کارکن جو مختلف موقعوں پر اپنے اوقات اور اپنے آرام کو قربان کر کے سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ان کے لئے دعا ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں کامیاب کرے۔ان کی ہمتوں کو بلند کرے۔اور اس کے بعد تمام احمد یہ جماعت کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں اتحاد اور تنظیم پیدا کرے اور ان سب کو یکجان کرے۔ان سب کو خلافت کے ساتھ ایک جان کر کے وابستہ رکھے۔اور دنیا پر یہ بات واضح رہے کہ جماعت احمد یہ خواہ وہ لاکھوں ہیں یا کروڑوں ہیں ایک امام کے ماتحت ایک آواز پر چلنے والے ہیں۔جہاں کر دیا گرم۔گرما گئے وہ جہاں کر دیا نرم نرما گئے وہ پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے تمام جماعت احمدیہ کو ایسے اعمال بجالانے کی توفیق دے۔اور ہماری کمزوریوں پر ایسی ستاری فرمادے کہ جب ہم اس کے روبرو حاضر ہوں تو سرخرو ہو کر حاضر ہوں اور وُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ نَاضِرَةٌ إِلى رَبَّهَا نَاظِرَةٌ (القيامة: ۲۴،۲۳) کے مصداق ہوں، کوئی بدنامی کا ٹیکہ ہمارے چہروں پر نہ ہو۔خدا تعالیٰ ہم سے خوش ہو اور وہ ہماری عاجزانہ کوششوں کو قبول فرمائے۔ان دعاؤں کے ساتھ اس مجلس کو جو کہ بہت ہی غیر معمولی حالات میں منعقد ہوئی ہے میں بڑھانا چاہتا ہوں۔اس کے بعد صدر محترم نے ایک پُر سوز اجتماعی دعا کرائی۔اور اس طرح جماعت احمدیہ کی ۴۵ ویں مجلس مشاورت دو بجے بعد دو پہر خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔48