تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 437
تاریخ احمدیت۔جلد 22 437 سال 1964ء چلانے کی آپ کی اولاد کو بھی توفیق ملی۔کوئی مانے یا نہ مانے۔کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ صاحبزادگان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی توفیق دی جماعت کی خدمت کرنے کی کہ ہم سب نمائندگان اور بیرونی جماعتیں ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کاموں کو ہاتھ میں لیا۔اور ان کا بدل کوئی اور نہیں تھا۔اور جن کو وہی کر سکتے تھے۔یہ بات محض خیالی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا ئیں کیں ایسے درددل کے ساتھ کہ ان سے بڑھ کر الفاظ میسر نہیں ہو سکتے ؎ زبان چلتی نہیں شرم و حیا ہے تری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ دے سب انکو جو مجھ کو دیا ہے ہوں میری طرح دیں کے منادی یہ دعائیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیں۔اگر دیکھنے والی آنکھ ہو اور سمجھنے والا دل ہو تو اس کے نظارے ہم دیکھتے ہیں۔اس لئے میں دعا کرتا ہوں ،سب سے پہلے یہ دعا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے امام کو اپنی بے انتہا قدرتوں سے شفا کامل عطافرمادے؎ اک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے اے رب الوریٰ دوسرے میں صاحبزادگان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمتوں کو بلند سے بلند تر کرے۔وہ ہمارے اولوالعزم آقا کے اولوالعزم صاحبزادے ہیں۔ہمارے مخدوم ہیں۔وہ آگے بڑھیں ہم ان کے پیچھے چلنے والے ہوں۔اور وہ بالکل مطمئن ہو کر کام کریں۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمتوں کو بلند کرے۔اور ان کی مرادوں کو بار آور کرے۔پھر میں دعا کرتا ہوں مرکز کے کارکنوں کے لئے جو اسباب کی کمی کے باوجود ایسے مشکل حالات میں جن کا صحیح اندازہ ہمیں نہیں۔جو کرتا ہے وہ بھرتا ہے اور وہی جانتا ہے۔بہرحال نہایت مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور فرمائے۔نیک اسباب مہیا فرمائے۔اور انہیں نظام سلسلہ کو مضبوط سے مضبوط تر اور کامیاب سے کامیاب تر بنانے کی توفیق دے۔اس کے بعد میں ان مبلغین کے لئے دعا کرتا ہوں جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا کر رہے ہیں کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤ نگا“