تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 436
تاریخ احمدیت۔جلد 22 436 سال 1964ء ایسا نہیں آیا جس میں جماعت کا قدم آگے نہ بڑھا ہو۔اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھا جبکہ ہم پر نکتہ چینیاں نہ کی گئی ہوں۔ان تمام چیزوں کے باوجود ہم بڑھتے چلے گئے ہیں۔اور انشاء اللہ بڑھتے چلے جائیں گے۔گزشتہ ۷۵ سال میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے اور جو آئندہ وعدے ہیں ہم اپنی چشم بصیرت سے اس وقت بھی دیکھ رہے ہیں۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری ظاہری آنکھوں کے سامنے وہ نقشے کامیابیوں کے لائے جن کے اس نے ہم سے وعدے کر رکھے ہیں۔اس کے بعد میں دعا کرنا چاہتا ہوں اور آپ دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ جب یہاں سے واپس جائیں تو اس فرض کو اپنے کندھوں پر لے کر جائیں کہ ہم نے یہاں پر بہت کچھ باتیں کیں سنیں اور کہیں۔لیکن ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ تمام جماعتوں کی تنظیم کو زیادہ مضبوط کریں اور بیدار کریں۔اور چست کریں۔ہمیں حالات ایسے پیش آگئے ہیں کہ ہمیں اپنی ہمتیں زیادہ بلند کرنی پڑیں گی۔سلسلہ کے کاموں کے لئے ہمیں زیادہ وقت دینا پڑے گا۔اور نکتہ چینی کو ہم بالکل چھوڑ دیں گے۔وقت ہوتا ہے ہر ایک چیز کا ؎ ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مقامی دارد یہ وقت نکتہ چینیوں کا نہیں ہے۔یہ وقت ہے کف لسان کا، آگے بڑھنے کا عمل دکھانے کا، ہمت باندھنے کا نکتہ چینیوں کا وقت اور ہوتا ہے۔یہ کام کرنے کا وقت ہے۔تنظیم کرنے کا وقت ہے اور مرکز کے نظام کو زیادہ مضبوطی سے چلانے اور اس کی زیادہ تعظیم وتکریم کا وقت ہے۔اس بات کو مد نظر رکھیں۔میں جو عرض کر رہا ہوں بطور صدر مشاورت کے نہیں بلکہ ہمیشہ میں نے انہی خطوط پر سوچا ہے اور میرے ہمیشہ سے یہ خیالات ہیں۔دیکھئے میں اس بات کا ذکر کرنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ حضرت صاحب بیمار ہوئے اور آپ کے صاحبزادگان کو اللہ تعالیٰ نے بیدار کیا۔اور خدا تعالیٰ کی تحریک سے اور اس کے القا سے انہوں نے جماعتی کاموں کو سنبھالا، سینہ سپر ہو کر سنبھالا۔نکتہ چینیوں اور کئی جلی با توں کے ساتھ ایسے حالات میں سنبھالا جبکہ ہم سب کا روحانی باپ اور ان کا جسمانی باپ بھی اور روحانی باپ بھی بیمار ہوا ہے۔ایسے حالات میں ان کا حق تھا کہ آپ کی تیمار داری کے سوا اور کسی بات کو نہ سوچتے لیکن جس غرض کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسدِ مبارک کے پاس کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے رو بر وعہد کیا تھا اس عہد کو آگے