تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 435 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 435

تاریخ احمدیت۔جلد 22 435 سال 1964ء کارکنوں کو توفیق دے کہ وہ پہلے سے زیادہ آگے اپنا قدم بڑھا ئیں۔ہم ان کے ساتھ ہیں۔اور ہمارا تعاون پورے طور پر ان کے شامل حال ہو۔ہم نکتہ چینی کرنے نہیں آئے تھے بلکہ آپ کو آگے بڑھانے کے لئے اور اپنی امداد کا یقین دلانے کے لئے آئے تھے۔تیسرا امر جو بہت ہی قابل توجہ ہے اور ہر ایک احمدی کے لئے جو یہاں موجود ہے بلکہ جو یہاں نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی گوشہ میں موجود ہے اس کے لئے بھی قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے سانچے پر اس کے موعود خلیفہ نے اور مصلح موعود نے بنایا ہے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر اس کے چلانے کے لئے خلیفہ ایک ایسے شخص کو جو سب کا خادم ہے۔ان سب کے لئے صدر مقرر کر دے جو اس کے مخدوم ہیں تو وہ مخدوم اپنے خادم کے ساتھ تعاون کر سکتے اور کام کر سکتے ہیں۔اس شوری سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ میں جو ایک ادنی ترین خادم ہوں اگر صدر بنایا گیا ہوں۔ان لوگوں کا جو تمام کے تمام میرے مخدوم ہیں جن میں ایسے بھی میرے مخدوم ہیں جن پر میرے دل و جان قربان ہیں تو یہ صرف نظام کی خوبی اور تاخیر ہے نہ کہ کسی اور کی۔اس وقت حضرت صاحب بیمار ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے ماتحت شائد اس لئے کہ لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس : (۱۵) میں نے پرسوں مشاورت کا آغاز کرتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ہماری ذمہ داری حضرت صاحب کی بیماری کی وجہ سے بہت بڑھ گئی ہے۔بہت بڑھ گئی ہے۔اگر ہم اس بات کو پورے طور پر ٹولیں تو معلوم ہوگا کہ میں سونا نہیں چاہیئے بلکہ دن رات جماعت کا کام کرنا چاہیئے اور کوئی بات جو حضرت صاحب کے منصب، جماعت کی تنظیم اور جماعت کے نظام کے خلاف ہو نہ زبان پر لانی چاہیئے اور نہ کسی کی زبان پر آنے دینی چاہیئے۔ہماری تمام سرخروئی اور ہماری تمام کامیابی گزشتہ پچاس سال میں خلافت ثانیہ کے زمانہ میں یا اس سے پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے زمانہ میں جس قدر بھی ہوئی ہے وہ ایک امام کے ماتحت اور ایک خلیفہ کو واجب التعمیل یقین کرتے ہوئے ہوئی ہے۔ورنہ اگر یہ بات نہ ہو اور اس کے خلاف کوئی نظام ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ آندھیاں جو چلیں، وہ طوفان جو بر پا ہوئے ، وہ بھٹیاں جن میں ہم ڈالے گئے ان میں ہمارا نام و نشان تک نہ رہ جاتا۔اللہ تعالیٰ اس خلافت کی برکت سے ہمیں منزل بہ منزل اس طرح محفوظ کرتا چلا آیا ہے کہ کوئی چیز نہیں جو ہمارے سد راہ ہوئی ہو۔اور گزشتہ ۷۵ سال میں سے جن میں سے خلافت ثانیہ کے پچاس سال ہیں کوئی دن