تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 418
تاریخ احمدیت۔جلد 22 418 سال 1964ء آپ مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو احمد یہ جماعت کے اراکین کی کثرت رائے سے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کے خلیفہ مقرر ہونے سے قبل، حضرت مولوی نور الدین خلیفہ امسیح الاوّل نے اشارةُ پیشگوئی کر دی تھی کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نسبتا کم عمر میں خلیفہ مقرر ہوں گے اور لمبی عمر پائیں گے۔غرضیکہ آپ کا دورِ خلافت دراز ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی (حضرت) سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ بعض اوقات آپ سوچتے کہ اپنے متبعین کو بتادیں کہ محمود خلیفہ مقرر ہوں گے مگر پھر آپ نے ایسا نہیں کیا۔کیونکہ آپ علیہ السلام کو یقین تھا کہ منشائے الہی خود مناسب وقت پر اپنی تجلی ظاہر کرے گا۔دی ٹروتھ کا سارا عملہ اس عظیم الشان موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت اقدس میں دلی مبارکباد پیش کرتا ہیں اور ہم سب آپ کی صحت کا ملہ اور درازی عمر کے لئے دعا گو ہیں تا کہ آپ وہ کا رہائے عظیمہ جاری رکھ سکیں جو آپ گذشتہ پچاس سالوں سے بجالا رہے ہیں۔نیز ہم آپ کے کاموں کے ہر شعبہ میں دل و جان سے عاجزانہ اطاعت اور اتحاد و عمل کا عہد کرتے ہیں۔ممباسه، کینیا (۱۵ مارچ) جلسہ کی صدارت کے فرائض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے سرانجام دیئے۔ایک تقریر سواحیلی میں اور چار انگریزی میں ہوئیں۔مصلح موعود سے متعلق الہامی پیشگوئی کے الفاظ کا انگریزی میں ترجمہ سنایا گیا۔ممباسہ ٹائمنز نے حضرت مصلح موعود کا فوٹو جلسہ کے انعقاد اور وقت کی خبر کے ساتھ شائع کیا جو 28 صوفی محمد الحق صاحب مبلغ سلسلہ کی کوشش کا نتیجہ تھا۔کمپالہ، یوگنڈا ( ۲۸ مارچ) جلسہ کی کارروائی ۵ بجے شام سے ۸ بجے شب تک جاری رہی جس میں ایثار بٹ صاحب، لطیف احمد صاحب بھٹی، رفیق احمد صاحب بھٹی، ڈاکٹر لعل الدین صاحب، چوہدری چراغ دین صاحب اور شعبان کرونڈے صاحب نے موثر پیرایہ میں خطاب فرمایا۔اس موقع پر ایک امریکن نوجوان مسٹر میک ٹوش اور ایک معزز سکھ دوست جناب سردار کشن سنگھ صاحب پرنسپل کمرشل کالج نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔