تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 419
تاریخ احمدیت۔جلد 22 419 سال 1964ء مسٹر میک ٹوش نے کہا ” ہمیں امید ہے کہ جماعت احمد یہ دنیا کی روحانی رہنمائی کے لئے صف اول میں شمار کی جائے گی“۔سردار کشن سنگھ صاحب نے بتایا کہ میں ہوشیار پور کا رہنے والا ہوں اور اسی جگہ حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے ایک روشن اور زندہ نشان دیا۔انہوں نے کہا کہ ہوشیار پور میں حضرت مرزا صاحب نے چلہ کیا اور ان دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو نہایت اولوالعزم اور نہایت خوبیوں والا لڑکا دیا جو کہ اب جماعت کا امام ہے اور اس کی قیادت میں جماعت اکناف عالم میں ترقی کر رہی ہے اور میں اس شاندار ترقی پر جماعت کو مبارکباد دیتا ہوں۔اس خوشی کے موقع پر بیگم ڈاکٹر لعل الدین صاحب نے بچوں میں مٹھائی تقسیم کی۔پاکستان کے مشہور عالم سائنسدان محترم پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام کی ایک جدید سائنسی تحقیق 29 ذرات میں درجہ بندی کے ایک نئے نظریہ کی تشکیل پر برطانیہ کے سائنسی حلقوں کی طرف سے اظہار تحسین لنڈن ۲۳ فروری۔مادہ میں عناصر کے ابتدائی ذرات کی درجہ بندی کے ایک یکسر نئے نظریہ کی تشکیل سے متعلق پاکستان کے نو عمر سائنسدان ڈاکٹر سلام کی تحقیق پر برطانیہ کے سائنسی حلقوں نے علی الاعلان انہیں خراج تحسین و آفرین پیش کیا ہے۔برطانیہ کے صف اول کے سائنسی تبصرہ نگار ٹام میرگر لیسن (Tom Mergerison) کے نزدیک ڈاکٹر سلام نے جو نیا نظریہ قائم کر دکھایا ہے وہ دنیائے سائنس کے بلند ترین کا رہائے نمایاں میں سے ایک ہے۔یہ کامیابی برطانیہ اور امپریل کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لئے جس میں ڈاکٹر سلام نظریاتی فزکس کے پروفیسر ہیں ایک فتح عظیم کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو اس فتح پر فخر کا اصل استحقاق امریکہ کی ہوائی فوج کو پہنچتا ہے جو ڈاکٹر سلام کو اس تحقیق کے لئے ۸ ہزار پونڈ سالانہ کی گرانٹ دیتی ہے۔سائنسی اور صنعتی تحقیق کے برطانوی محکمے نے تو ان کے تحقیقی کام میں مالی معاونت سے انکار ہی کر دیا تھا۔ڈاکٹر سلام نے یہ کارنامہ اپنے ساتھی ڈاکٹر جے۔سی وارڈ اور اپنے شاگرد ڈاکٹر نیمان (Dr Naman) کی مدد سے انجام دیا ہے۔امریکہ میں ڈاکٹر سلام کے کارنامہ کا پہلا اعتراف آج سے تین روز قبل ہوا جبکہ نیو یارک ٹائمنر