تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 401
تاریخ احمدیت۔جلد 22 401 سال 1964ء یا انہیں تعمیر کرنے کی تجویز منصہ شہود پر آئی ہے۔یہ مساجد اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ یورپ میں اسلامی مشنوں ( تبلیغ کے مراکز) کا ایک جال پھیلایا جا رہا ہے۔ان مشنوں کے قائم کرنے والے مسلمانوں کے صف اول کے دو بڑے گروہوں یعنی شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ان کا تعلق مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت سے ہے جنہیں بالعموم بدعتی سمجھا جاتا ہے۔اس جماعت کا نام جماعت احمد یہ ہے۔یورپ کی اکثر مساجد اس جماعت نے ہی تعمیر کی ہیں۔یہ جماعت آج سے ستر سال قبل برصغیر پاک و ہند میں معرض وجود میں آئی تھی۔اس جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔اس کا دعوی ہے کہ وہ حقیقی اسلام کی علمبردار ہے۔اپنے اس دعوی کی رُو سے یہ نوع انسان کی فلاح اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔احمد یہ تحریک اول و آخر ایک مشنری تحریک ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہر خاندان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے میں سے کم از کم ایک فرد کو پیش کرے جو تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف رکھے۔یہ عقل کو اپیل کرنے کی بنیاد پر اپنے مشن بالعموم اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ افریقی ممالک میں اور ان میں سے بھی زیادہ تر مغربی افریقہ میں اور پھر یورپ اور امریکہ میں قائم کر رہے ہیں۔ان کے یورپی مراکز زیورک ، لنڈن اور کوپن ہیگن میں قائم ہیں۔ان میں سے زیورک کا مرکز وسطی یورپ اور اٹلی کے علاقہ کو کنٹرول کرتا ہے۔لنڈن کے مرکز کا رابطہ سارے مغربی یورپ سے ہے اور کوپن ہیگن کے مرکز کے دائرہ عمل میں شمالی یورپ کا تمام علاقہ شامل ہے۔یورپ کے عیسائی ممالک میں اسلام کے یہ نمائندے بدھ مت والوں کے خلاف (اور) عیسائیت کا مقابلہ کرنے میں بہت پیش پیش ہیں۔جرمن زبان میں ان کی مطبوعات شائع ہوئی ہیں۔ان میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام میں زمانہ حال کے جدید مسائل کا پوراحل موجود ہے اور اسلام ہی انسانی ضرورتوں کے مناسب حال وہ اکیلا مذہب ہے جو وسعت فکر، تعمیر وترقی اور آزاد خیالی کا علمبردار ہے۔پُر مسرت، ایمان افروز اور ولولہ انگیز تقاریب ان آسمانی نصرتوں، فضلوں اور برکتوں کے جلو میں ۱۴ / مارچ ۱۹۶۴ء کا مبارک دن طلوع ہوا اور ساتھ ہی ربوہ، قادیان نیز دنیا بھر کی احمدی جماعتوں میں خلافت ثانیہ پر پچاس سال پورے ہونے پر پر مسرت تقاریب کا آغاز ہو گیا۔