تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 400 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 400

سال 1964ء تاریخ احمدیت۔جلد 22۔400 چنا نچہ سوئٹزر لینڈ کے مشہور روزنامہ BERNER TAGBLATT نے اپنی ااجون ۱۹۶۱ء کی اشاعت میں حضرت مصلح موعود کے ذریعہ عالمگیر مہم کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔اس دوران میں یہ جماعت دنیا کے اور بہت سے حصوں میں پھیل گئی ہے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے۔لنڈن ، ہمبرگ، فرانکفورٹ ، میڈرڈ، زیورک اور سٹاک ہلم میں اب اس جماعت کے با قاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں۔امریکہ کے شہروں میں سے واشنگٹن ، لاس انجیلس ، نیو یارک ، پٹسبرگ اور شکاگو میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں۔اس سے آگے گریناڈا، ٹرینی ڈاڈ اور ڈچ گی آنا میں بھی یہ لوگ مصروف کار ہیں۔افریقی ممالک میں سے سیرالیون، گھانا، نائیجیریا، لائبیریا اور مشرقی افریقہ میں بھی ان کی خاصی جمعیت ہے۔مشرق وسطی اور ایشیا میں سے مسقط ، دمشق، بیروت، ماریشس، برطانوی شمالی بور نیو کولمبو، رنگون ، سنگا پور اور انڈونیشیا میں ان کے تبلیغی مشن کام کر رہے ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ سے قبل ہی قرآن کا دنیا کی سات مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔چنانچہ اب تک ڈچ ، جرمن اور انگریزی میں پورے قرآن مجید کے تراجم عربی متن کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں۔اسی طرح عنقریب روسی ترجمہ بھی منظر عام پر آنے والا ہے۔اس جماعت کا نصب العین بہت بلند ہے یعنی یہ کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی مذہب کا پابند بنا کر انہیں باہم متحد کر دیا جائے۔وہ مذہب احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے۔اس کے ذریعہ یہ لوگ پوری انسانیت کو اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک کر کے دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہیں توقع ہے کہ بالآخر تمام بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر مسلمان ہو جائیں گے۔یہ جماعت خود اور اس کا اپنے مولد و مسکن سے نکل کر پوری دنیا میں اس قدر مضبوطی سے پھیل جانا نوع انسان کی روحانی تاریخ کے عجیب و غریب واقعات میں سے ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے۔اگلے سال سوئٹزر لینڈ کے ایک اور مشہور عیسائی اخبار SCHWEIZER EVANGELIST نے ۷ اکتوبر ۱۹۶۲ء کو لکھا:۔جرمنی میں تعمیر شدہ اور زیر تعمیر مساجد کی کل تعداد سات ہے۔لنڈن ، دی ہیگ اور ہلنسکی میں بھی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک میں بھی ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ان مساجد میں سے اکثر مساجد گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ہی تعمیر ہوئی ہیں