تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 395 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 395

تاریخ احمدیت۔جلد 22 395 سال 1964ء علاوہ ازیں ڈنمارک کے دارالسلطنت کوپن ہیگن میں خدا کے گھر کے لئے موزوں مقام پر ایک پلاٹ بھی اسی مبارک دور میں خریدا گیا۔تعلیمی ادارہ جات خلافت ثانیہ کے دور میں مسلمان افریقن طلباء کو عیسائیت کے اثرات سے بچانے کے لئے افریقہ کے مختلف مقامات پر ۵۹ سکول جاری کئے گئے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ملک ٹرینیڈاڈ نائیجیریا (مغربی افریقہ ) غانا ( مغربی افریقہ) کینیا ( مشرقی افریقہ) ماریشس انڈونیشیا تعداد تعلیمی ادارہ جات 11 ملک برٹش گی آنا فلسطین سیرالیون یوگنڈا جزائر فجی تعداد تعلیمی ادارہ جات ان تعلیمی اداروں کی بدولت مسلمان طلبہ اپنے عقائد پر چٹان کی طرح قائم ہو گئے جس کا واضح ثبوت وہ احساس تشکر ہے جوان افریقی مسلمانوں میں پایا جاتا ہے جو ان اداروں سے فیضیاب ہو کر نکلنے والوں کی عظیم الشان قومی خدمات پر انگشت بدنداں ہیں۔سیرالیون کے وزیر معدنیات (بعد ازاں نائب وزیر اعظم ) آنریبل مصطفیٰ سنوسی نے ایک مرتبہ جماعت کے تعلیمی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا تھا:۔یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے ہمیں اسلامی روشنی کے ساتھ نیند سے بیدار کیا ہے۔گذشتہ بیس سال سے نامساعد حالات کے باوجود یہ اصحاب ملک کی روحانی اور تعلیمی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہیں۔اس لحاظ سے وہ اور بھی زیادہ خراج تحسین کے مستحق ہیں کیونکہ ان کا مقصد صرف مسلمانوں کی خدمت ہی نہیں بلکہ وہ مذہب اور عقیدہ سے بالا تر ہو کر ساری انسانیت کی خدمت پر کمر بستہ ہیں۔سینکڑوں طلبہ جنہوں نے ان کے اداروں سے اکتساب علم کیا ہے اب اچھے شہری بن چکے ہیں۔ان میں اکثر زندگی کے تقریبا تمام شعبہ جات میں سرگرم عمل ہیں۔اسی طرح سیرالیون کے وزیر آبادی آنریبل کا نڈے بورے نے ایک مرتبہ کہا:۔