تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 368 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 368

تاریخ احمدیت۔جلد 22 368 سال 1963ء سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نہایت معتمد اور دست راست تھے۔حضور نے آپ کے سپرد بڑی بڑی ذمہ داریاں بھی فرما ئیں تقسیم ہند کے وقت آپ کو حفاظت مرکز کے سلسلہ میں حکومت ہند نے گرفتار کیا۔سخت اذیتیں دیں اور عملی طور پر تذلیل کی بھی کوشش کی اور یوں آپ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے قربانی کرنے والوں کی صف اول میں شامل ہو گئے۔W پر جو عمارت بطور مشن ہاؤس خرید کی گئی تھی جماعتی ضروریات کے لئے تیزی سے ہورہی سے ناکافی ثابت ہو رہی تھی۔نماز جمعہ کے لئے احباب و خواتین کے لئے اس کے کمرے کم رہ جاتے تھے۔لوگوں کے لئے پارکنگ کی مشکلات بڑھ رہی تھیں۔اس وجہ سے ایک عرصہ سے یہ غور کیا جارہا تھا کہ کوئی ایسی جگہ یا مکان خریدا جائے جہاں وسیع مشن ہاؤس اور مسجد کی تعمیر کے لئے جگہ ہو اور آئندہ کی بڑھتی ہوئی احمدی آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جائے اس غرض کے لئے ایک مسجد کمیٹی زیر ہدایت حضرت خلیفہ اسیج قائم کی گئی جس نے مولانا سیم مہدی صاحب کی زیر نگرانی تندہی سے کام کرنا شروع کیا۔مہدی صاحب اور کمیٹی کے ممبران کی ان تھک کوششوں سے ۱۳ دسمبر ۱۹۸۵ء کو ایک نہایت موزوں قطعہ بہت اچھے علاقہ میں سوا پانچ لاکھ ڈالر کے زر کثیر سے خرید لیا گیا اس کا رقبہ ۱۲۵ یکٹر ہے۔اس میں ایک تین منزلہ عمارت ہے جو بائیس کمروں پر مشتمل ہے جس میں دو بڑے ہال ہیں۔ڈیڑھ در جن غسل خانے اور ڈبل گیراج ہے۔اس بڑی عمارت کے قریب ہی دو بیڈ روم کا فریم ہاؤس اور ایک بڑا گودام ہے۔یہ قطعہ زمیں کینیڈا کی مشہور تفریح گاہ کینیڈ ونڈر لینڈ سے چند فرلانگ کے فاصلہ پر ہائی وے ۴۰۰ ر اور جین سٹریٹ کے درمیان واقع ہے۔اس مشن ہاؤس کا نام حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے از راہ شفقت بيت الاسلام رکھا۔الحمد للہ اس کا ایڈریس مندرجہ ذیل ہے۔Jane street Maple (Ont) LA ISI 10610 چونکہ جماعتی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی تھیں اس لئے مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کے پروگرام کے سلسلہ میں تیزی سے کام شروع ہوا اور یہ جماعت کینیڈا کی خوش بختی تھی کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۶ء میں بنفس نفیس کینیڈا تشریف لائے اور اس ملک میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد کا سنگِ بنیا دا اپنے دست مبارک سے رکھا۔تعمیر مسجد اور سنگ بنیاد کے سلسلہ میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض معاندین کو جب اس عظیم منصوبہ کا علم ہوا تو انہوں نے اس اللہ کے گھر کی تعمیر کو رکوانے کے سلسلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور