تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 369
تاریخ احمدیت۔جلد 22 369 - سال 1963ء پراپیگنڈے کی وسیع مہم شروع کر دی گئی۔Maple Township جہاں یہ مسجد تعمیر ہوگی کے اہالیان کو یہ باور کرانیکی کوشش کی گئی کہ یہ مسجد نہیں دہشت گردی کا اڈا بنایا جارہا ہے جہاں سے فتنہ و فساد پھیلایا جائے گا۔علاقہ کا امن تباہ کیا جائیگا۔لوگوں کی لاعلمی کی وجہ سے وہ اس منصوبہ کے بارہ میں پریشان ہوئے اور علاقہ کے کمیونٹی ہال میں جلسہ کیا تا کہ اس بارہ میں احتجاج کیا جائے اور اس کی تعمیر کورکوایا جائے۔مولا نانسیم مہدی صاحب کو جب اس کا علم ہوا تو وہ خود اپنے رفقاء کار کے ساتھ اس میں شامل ہوئے اور نہایت قابلیت اور دانشمندی سے اس شرارت کا پول کھولا اور اہالیان کو وضاحت سے بتایا کہ جماعت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ میں ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ہم لوگ امن کے علمبردار ہیں ہمارا اصول ہی یہ ہے کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“۔پاکستان جہاں جماعت کا عالمگیر مرکز ہے وہاں صرف یہی ایک جماعت ہے جس کے خلاف دہشت گردی ، لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔بے گناہ احمدی بے قصور گرفتار کئے جاتے ہیں اور بغیر مقدمات کے جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔دسیوں احمدی قتل کئے جاچکے ہیں اور کسی ایک قاتل کا بھی سراغ نہیں لگایا گیا اور نہ سزادی گئی۔احمدی طلبا کو کالجوں میں داخلہ ملنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔سرکاری ملازمین کی ترقیات روک دی گئی ہیں مساجد سے اذان بند کر دی گئی ہے۔احمدی اخبارات اور رسائل کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔لاؤڈ سپیکر پر کوئی احمدی تقریر نہیں کر سکتا۔ہر قسم کا جلسہ اور اجتماع ختم کر دیا گیا ہے۔یہاں تک کہ ہم لوگ مسلمان ہیں لیکن اگر کوئی احمدی اپنے آپ کو مسلمان ہونے کا اعلان کر دے تو اُسے تین سال قید با مشقت کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ہمارے مسلمان ہونے کا یہاں سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم اس شہر میں ڈھائی ملین ڈالر کی لاگت سے اسلامی مسجد تعمیر کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ دسیوں بیسیوں احمدی ہیں جو مختلف قسم کے فرضی جرائم میں گرفتار کر کے پابند سلاسل کئے جاچکے ہیں۔صدر پاکستان احمدیوں کو کینسر قرار دے چکے ہیں کہ وہ عنقریب اس کی جڑیں پاکستان سے اکھیڑ دینگے۔لیکن یہ مسجد جو بنائی جارہی ہے یہ اللہ کا گھر ہے اس میں ہر مذہب وملت کا شخص جو خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہے بڑی خوشی سے آسکے گا اور عبادت بجالانے کا مجاز ہوگا اور اگر ہم نے غلط الزام لگائے ہیں تو ہمارے مخالفین کھڑے ہوں اور انہیں ثابت کریں کہ یہ غلط ہیں لیکن یہ عجیب بات تھی کہ مخالفین کا وکیل تو موجود تھا لیکن بذات خود ایک بھی مخالف اس محفل میں موجود نہ تھایا اگر